ایران جنگ اور پاکستان کا کردار۔۔۔ کیا جنگ تھم جائے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے بتیسویں روز  میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں، بالخصوص تہران اور اصفہان  پر فضائی حملوں کے نتیجے میں زور دار دھماکے ہوئے ، جو اس امر کی عکاسی ہے کہ جنگ نہ صرف طول پکڑ رہی ہے بلکہ اس کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے  جس کے دوران سیاسی بیانات، عسکری دعوے اور علاقائی ردعمل ایک پیچیدہ اور غیر یقینی منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔

 گزشتہ 24گھنٹوں میں  ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر جنگ کے بیانات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اپنی فتح کے تمام جواز تیار کرچکا ہے ، جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر یہی بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی عسکری قوت تمام کی تمام فنا کردی ہے اور اب ایران کی طرف سے مزاحمت کم ہوتی جارہی ہے۔ ان کا رجیم چینج کا مقصد پورا ہوگیا، ان کے تمام بڑے رہنما قتل کردئیے گئے، اس سے محسوس یہی ہوتا ہے کہ امریکا کی فیس سیونگ کی تیاری مکمل ہے اور امریکا ایران سے نکل سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی پورا زور لگائے گا کہ ایران کو اتنا تباہ و برباد کیاجاسکے کہ کبھی وہ سر اٹھانے کے قابل نہ ہوسکے۔

ایران کے اندرونی حالات بھی اس جنگ کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو دراصل ایک ایسا اقدام ہے جس سے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس اہم آبی گزرگاہ کو جنگ کے باعث عملی طور پر محدود کر دیا گیا ہے، تاہم ایران کی یہ پالیسی عالمی طاقتوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ معاشی دباؤ کا جواب معاشی ہتھیاروں سے دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی دوران ایرانی فوج نے ایک ماہ کے دوران اپنا 87ویں حملے کی لہر بروئے کار لاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی عسکری صلاحیت بدستور قائم ہے  ، جیسا کہ امریکا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے نصف سے زائد اہداف حاصل کر چکی ہے، تاہم انہوں نے اس کے اختتام کیلئے کوئی حتمی ٹائم لائن دینے سے گریز کیا۔

اسرائیل  کے مطابق تہران میں واقع امام حسین یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے جدید ہتھیاروں کی تحقیق کا مرکز قرار دیا جاتا ہے ،  دوسری جانب ایران کے حملوں کے مضر اثرات اسرائیل کے گلی کوچوں بھی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جہاں حیفہ کی آئل ریفائنری میں میزائل حملے سے ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ خلیجی خطہ اس جنگ کے براہِ راست اثرات کی زد میں آ چکا ہے۔ یو اے ای حدود میں کویتی آئل ٹینکر پر حملہ،  سعودی عرب میں بیلسٹک میزائلوں  کی بدستور بوچھاڑ اور بحرین میں  حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تنازع اب سرحدوں سے نکل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔  اس تمام تر پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں اس کی وسعت، فعالیت اور اثر پذیری ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

ہر گزرتے دن اور ہر آنے والے ہفتے میں اس پالیسی کے نئے زاویے اور جہتیں سامنے آ رہی ہیں، جو اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اسے محض وقتی کامیابی نہیں بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ ابھرتی ہوئی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کا عالمی سیاست میں فعال کردار کوئی نئی بات نہیں بلکہ 1970 کی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح 1988 میں  افغانستان اور سوویت یونین معاہدہ ہو یا 2020 میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ مذاکرات، ان تمام اہم پیش رفتوں میں پاکستان کا پس پردہ کردارشامل رہا ہے، جسے نظر انداز کرنا تاریخی حقائق سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ اس ضمن میں ممتاز سفارتکار جمشید  کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے ایسٹ تیمور جیسے پیچیدہ بین الاقوامی معاملات کو سلجھانے میں غیر روایتی ذرائع کا سہارا لیا۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف اس وقت بھی کیا گیا جب اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان  نے انہیں خصوصی نمائندے کے طور پر نامزد کیا۔ یہ تقرری نہ صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں کا اعتراف تھی بلکہ پاکستان کی سفارتی ساکھ کا بھی مظہر تھی۔

موجودہ عالمی حالات میں جہاں معاشی عدم استحکام اور جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کیلئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی مہارت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائے۔ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں جنگ مخالف مظاہروں کا سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی رائے عامہ بڑی طاقتوں کی عسکری پالیسیوں سے مطمئن نہیں۔ امریکا سمیت مختلف ممالک میں لاکھوں افراد کا سڑکوں پر نکلنا اس دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے جو پالیسی سازوں کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  پر بھی اسی نوعیت کا دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے تاہم   مبصرین اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اگر امریکا کے نکات تسلیم نہ کیے گئے  تو زمینی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع ہو سکتا ہے، جس کی تنبیہ ڈونلڈ ٹرمپ کرچکے ہیں، کیونکہ اس تمام تناظر میں اسرائیل کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ چند دنوں میں ایران کی قیادت اور نظام کو کمزور کر دیا جائے گا اور حکومت تبدیل ہوجائے گی ، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان اس معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، جیسا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کی لیک ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہے اور امریکا مختلف دعووں اور بیانات کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جس میں ایران کے خلاف  ممکنہ پسپائی کو بھی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

پاکستان نے اس کشیدہ صورتحال میں ایک متوازن اور فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد میں چار ملکی اجلاس کی میزبانی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان جنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کا راستہ آسان نہیں اور اس کیلئے منتعلقہ فریقین کو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر قائم رہتے ہوئے لچک کا مظاہرہ بھی کرنا پڑے گا، وگرنہ دنیا کی بھونچالی صورتحال مزید ابتر ہونا شروع ہوجائے گی۔

Related Posts