قطر سے پاکستان کے لیے ایل این جی لے جانے والا بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا نشانہ بن گیا جس کے بعد گیس کی ترسیل غیر یقینی ہوگئی ہے۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے جہاز کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے اجازت حاصل کرلی تھی۔
بلومبرگ کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے سفر کرنے والا ایل این جی بردار جہاز المعیدہ (Al Mayeda) قطر سے پاکستان آرہا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے ایرانی حکام سے سفارتی رابطے کیے تھے اور تہران نے جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی تاہم اجازت ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی 30 اکتوبر کو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاہم حملے کے ذمہ داروں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
🚨 پاکستان آنے والے قطری LNG ٹینکر پر آبنائے ہرمز کے قریب حملہ
یکم نومبر 2026 قطر سے پاکستان کے لیے LNG (مائع قدرتی گیس) لے جانے والا جہاز Al Mayeda جمعہ 30 اکتوبر کو خلیج فارس میں نامعلوم اشیا یا پروجیکٹائل کے حملے کا نشانہ بنا۔
اہم تفصیلات:
* جہاز پر قطر سے پاکستان کے لیے LNG کارگو موجود تھا۔
*پاکستان نے ایران سے جہاز کے محفوظ گزرنے کے لیے اجازت حاصل کی تھی۔
* اجازت ملنے کے چند گھنٹوں بعد جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
* جہاز کے عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔
* جہاز واپس خلیج فارس کی جانب مڑ گیا۔
* حملہ کس نے کیا، ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
* قطر کی کمپنی Nakilat کے مطابق جہاز محفوظ اور آپریشنل ہے، جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
— DGISPR MarKhor 🪖 𓃝 (@DGISPRMarKhor) November 1, 2026
قطر کی بحری گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نکلات (Nakilat) نے تصدیق کی کہ جہاز 30 اکتوبر کی شام خلیجی پانیوں میں نامعلوم اشیا کی زد میں آیا۔ کمپنی کے مطابق عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔ جہاز محفوظ اور آپریشنل حالت میں ہے، جبکہ ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ عملے اور علاقائی بحری سکیورٹی اداروں سے رابطہ بھی برقرار ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ بھی قطری ایل این جی جہازوں کی محفوظ آمد کے لیے ایران سے رابطے کیے تھے جن میں سے بعض آبنائے ہرمز عبور کرکے بحیرہ عرب پہنچ گئے تھے۔
حملے کے بعد المعیدہ نے راستہ تبدیل کرکے خلیج کی جانب واپسی اختیار کی۔ اس کی پاکستان آمد سے متعلق صورتحال تاحال واضح نہیں۔ اگر کھیپ نہ پہنچی تو پاکستان کو متبادل ایل این جی خریدنا پڑسکتی ہے جو مہنگی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہیں۔
پاکستانی حکام نے تاحال اس کھیپ، متبادل خریداری یا ملکی گیس سپلائی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








