عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی کے بعد پاکستانی صارفین کی نظریں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی آئندہ قیمتوں پر جم گئی ہیں۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے عالمی مارکیٹ سے آنے والی یہ خبر کسی ممکنہ ریلیف کی امید تو پیدا کر رہی ہے تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستان میں بھی عوام تک پہنچایا جائے گا اور کیا شہباز حکومت پیٹرول اور ڈیزل سستا کرکے شہریوں کو کچھ ریلیف فراہم کرے گی؟
عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ آئل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.59 ڈالر یعنی 1.40 فیصد گرنے کے بعد 111.84 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.56 ڈالر یعنی 1.50 فیصد سستا ہوکر 102.56 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوتا رہا۔
عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ ایران اور قطر کے حکام کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی امید بتائی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل تیسرے روز بھی مذاکرات میں مصروف رہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں کمی کی توقع پیدا ہوئی۔
یہ صورتحال پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے اہمیت رکھتی ہے، جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی صارفین تک پہنچنے کا انحصار دیگر عوامل، حکومتی ٹیکسوں، پیٹرولیم لیوی، روپے کی قدر اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی ہوتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی نے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کر رکھا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی سے نہ صرف موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ بھی قابل غور ہے کہ برینٹ کروڈ اکتوبر کے اختتام پر گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اس اضافے کے پیچھے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ شدت آنے کے خدشات اہم عوامل تھے، جبکہ امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا تھا۔
اب عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد توجہ پاکستان کی آئندہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین پر مرکوز ہوگئی ہے۔ کیا حکومت عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کا فائدہ براہ راست عوام کو منتقل کرے گی یا ٹیکسوں اور دیگر اخراجات کے باعث صارفین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکے گا؟ اس حوالے سے آئندہ سرکاری قیمتوں کے اعلان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








