بالی وڈ اداکار گووندا کے ساتھ ایک نئی اداکارہ کی مسلسل موجودگی نے بھارتی شوبز میں نئی چہ مگوئیاں شروع کردی ہیں۔ ممبئی ایئرپورٹ پر گووندا کے ساتھ نظر آنے والی کومل جو رانی سوارنکر کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں اچانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں تاہم دونوں نے تاحال اپنے تعلق کی نوعیت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
گووندا اور کومل کی ایئرپورٹ پر ایک ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد مختلف رپورٹس میں دونوں کو رومانوی طور پر جوڑا جانے لگا ہے اگرچہ سوشل میڈیا پر ان کے تعلقات کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن اداکار یا کومل میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ دونوں ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے نے گووندا کی اہلیہ سُنیتا اہوجا کے ساتھ ان کی شادی کو بھی دوبارہ خبروں میں لا کھڑا کیا ہے۔ سُنیتا ماضی میں مختلف انٹرویوز کے دوران شوہر کی مبینہ بے وفائی اور ازدواجی زندگی میں مشکلات کا ذکر کرچکی ہیں جس کے باعث کومل سے متعلق حالیہ خبروں کے بعد ان کے پرانے بیانات بھی دوبارہ زیر بحث آگئے ہیں۔
کومل کون ہیں؟
کومل ہندی فلم انڈسٹری میں نسبتاً نیا نام ہیں اور گووندا کے ساتھ منسلک ہونے سے قبل عام فلمی شائقین میں زیادہ معروف نہیں تھیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ گووندا کی آنے والی فلم روپا میں اداکاری کرتی دکھائی دیں گی جس کے باعث ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
کچھ رپورٹس میں کومل کو گووندا کی ایک اور زیر تکمیل فلم دنیاداری کے ساتھ بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو دونوں فنکار ایک سے زائد فلموں میں ایک ساتھ کام کرتے نظر آسکتے ہیں۔
کومل کا تعلق بھارتی ریاست اترپردیش سے بتایا جاتا ہے تاہم ان کی نجی زندگی اور خاندانی پس منظر کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ ان کی عمر اور تعلیمی قابلیت سے متعلق تفصیلات بھی عوامی سطح پر واضح نہیں ہیں۔
کومل کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے مطابق انہیں تقریباً 15.4 ہزار افراد فالو کرتے ہیں۔ وہ اپنے سوشل میڈیا پر ساڑی، سوٹ اور مغربی ملبوسات میں فوٹو شوٹس کی تصاویر شیئر کرتی رہتی ہیں۔ ان کی پوسٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی رجحان رکھتی ہیں اور بھگوان رام کی عقیدت مند ہیں۔
سُنیتا اہوجا نے کیا کہا؟
گووندا کے ساتھ کومل کی تصاویر اور ان کے مبینہ تعلق سے متعلق سوال پر سُنیتا اہوجا نے ایک ہندی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تباہی قریب آتی ہے تو انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی سمجھ بوجھ مدھم پڑ گئی ہے اور اب وہ اس معاملے پر مزید کیا کہیں۔
جب سُنیتا سے گووندا کو چیٹر نمبر ون قرار دیے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب گووندا کے مداحوں اور میڈیا کو دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی کوئی بات کرتی ہیں تو انہیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جاتا ہے اس لیے اب ان سے اس موضوع پر سوال نہ کیے جائیں کیونکہ انہیں اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
گووندا نے بے وفائی سے متعلق کیا کہا؟
سُنیتا کے بیان سے کچھ عرصہ قبل گووندا نے اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق گفتگو کی تھی جس کے بعض حصے آن لائن بحث کا موضوع بن گئے۔
گووندا نے کہا تھا کہ وہ 33 یا 34 برس کی عمر تک خود کو بے گناہ سمجھتے رہے تاہم اب انہیں اپنی اس سادگی پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ 34 برس کے بعد ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی تو انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص مٹھائی کی دکان میں موجود ہو لیکن پھر بھی بھوکا رہ جائے تو یہ افسوس کی بات ہوگی۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس بات کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے وفاداری ترک کرکے بے وفائی شروع کردی تو گووندا نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھوکا نہیں بلکہ محبت ہے۔
واضح رہے کہ گووندا اور سُنیتا اہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور دونوں کے دو بچے ہیں جن کے نام ٹینا اور یشوَردھن ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








