برمودا سے امریکی شہر بوسٹن جانے والی ایک ایئر ایمبولینس بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہو گئی ہے جس کی امریکی کوسٹ گارڈ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ حادثے کے بعد ساحلی علاقوں اور سمندر میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کینیڈا میں رجسٹرڈ یہ گلف اسٹریم (Gulfstream) طیارہ برمودا کے ایل ایف ویڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھر کر بوسٹن جا رہا تھا۔ اس میڈیکل فلائٹ پر کل 6 افراد سوار تھے جن میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والا 4 رکنی عملہ، ایک مریض اور ان کا ایک عزیز شامل تھا۔ یہ طیارہ کینیڈا کی ایک نجی کمپنی کی ملکیت تھا۔

اچانک ریڈار سے غائب ہونے اور ہنگامی کال کا پس منظر
ذرائع کے مطابق طیارے نے رات گئے برمودا سے پرواز کی تھی اور وہ اپنے سفر کے آخری مراحل میں تھا کہ امریکی ریاست میساچوسٹس کے جزیرے نانٹکٹ (Nantucket) کے قریب ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
ڈیٹا کے مطابق حادثے سے کچھ دیر قبل طیارے نے اچانک انتہائی تیز رفتاری سے نیچے کی طرف ڈیو لگائی اور محض چند منٹ کے اندر تقریباً 24 ہزار فٹ کی بلندی سے کم ہو کر 13 ہزار فٹ پر آ گیا جس کے فوراً بعد یہ ریڈار اسکرین سے غائب ہو گیا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول سے آخری رابطے کے دوران پائلٹ کی جانب سے ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق طیارے میں الیکٹریکل فالٹ (بجلی کا نظام خراب ہونے) کی شکایات بھی سامنے آئی تھیں جبکہ اس دوران شدید موسمی حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا تاہم حادثے کی اصل اور حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کوسٹ گارڈ کا سرچ آپریشن
طیارہ غائب ہونے کی اطلاع ملتے ہی امریکی کوسٹ گارڈ نے ہیلی کاپٹرز، طیاروں اور میری ٹائم جہازوں کی مدد سے فوری طور پر تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دیں تاحال نانٹکٹ کے قریب سمندر سے طیارے کا ملبہ تو تلاش کر لیا گیا ہے تاہم حادثے کے نتیجے میں طیارے پر سوار تمام 6 افراد کی حالت یا قسمت کے بارے میں تاحال کوئی حتمی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آ سکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ریسکیو مشن پوری تیزی سے جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








