لاہور میں منشیات کی ترسیل کے ایک غیر معمولی طریقہ کار کا پردہ فاش کرتے ہوئے پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے ڈرونز کے ذریعے مبینہ طور پر منشیات اسمگل کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے۔ آپریشن کے دوران ایک خاتون سمیت دو اہم ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ بھاری مقدار میں ہیروئن، ڈرونز اور دیگر جدید آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے مطابق لاہور نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن (NCS) کی ٹیموں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تھانہ باٹا پور کے علاقے گاؤں ڈھیال میں متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں مبینہ منشیات فروش گروہ کے دو اہم ارکان کو گرفتار کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے 24 کلوگرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن برآمد ہوئی جس کی اوپن مارکیٹ میں مالیت تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان ڈرونز کے ذریعے منشیات کی ترسیل اور نگرانی کے نظام میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران منشیات کی فضائی منتقلی کے لیے استعمال کیے جانے والے 7 جدید ڈرونز بھی برآمد کیے گئے جن میں ایک بڑا ڈرون بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈرونز کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والی مختلف اقسام کی بیٹریاں، چارجرز اور دیگر تکنیکی سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزمان کے پاس سے جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا جس میں ایک ایس ایم جی رائفل کے ساتھ 6 میگزین اور 377 گولیاں، ایک ایم فور (M4) رائفل بمعہ ایک میگزین، تین پستول (9 ایم ایم اور 30 بور) جبکہ مختلف اقسام کے 800 سے زائد کارتوس شامل ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کمانڈر بریگیڈیئر مظہر اقبال کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ منظم نیٹ ورک لاہور کے مختلف رہائشی علاقوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات کی فراہمی میں سرگرم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے ذریعے نہ صرف منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی بلکہ مبینہ سپلائی چین کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور سہولت کاروں کا سراغ لگا کر انہیں بھی قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خاتمے کیلئے صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز جاری ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے واضح کیا ہے کہ منشیات فروشوں اور اسمگلرز کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








