عمیری لیک ویڈیو سے مشہور ہونے والی خاتون کا قتل؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پر ایک نازیبا نجی ویڈیو کے باعث خبروں اور آن لائن بحث کا حصہ بننے والی خاتون انعم بی بی کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ان کے والد نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا تاہم واقعے کی آزاد ذرائع یا سرکاری سطح پر تاحال مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش دعوؤں کے مطابق انعم بی بی مبینہ طور پر والد کے حملے میں جاں بحق ہوئیں۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ خاتون کی لاش کو قانونی تقاضے پورے کرنے اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔

عمِیری ویڈیو تنازع کیا تھا؟

انعم بی بی کی مبینہ ہلاکت کی اطلاعات کے بعد سوشل میڈیا پر پہلے سے زیرِ بحث ایک تنازع ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پاکستانی سوشل میڈیا پر عمِیری ویڈیو کے نام سے ایک نازیبا نجی ویڈیو سے متعلق کافی بحث سامنے آئی تھی۔

مبینہ طور پر اس ویڈیو کو انعم بی بی اور عمیر بٹ سے منسوب کیا گیا جنہیں سوشل میڈیا پر عمِیری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ویڈیو سے متعلق مواد ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرتا رہا جس پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوؤں میں کہا گیا کہ مبینہ مواد میں ذاتی اور خاندانی معاملات کے علاوہ شادی سے متعلق گفتگو بھی شامل تھی۔

اس دوران متعدد ایسے لنکس بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان میں مکمل ویڈیو موجود ہے تاہم بعض صارفین نے ایسے لنکس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان میں سے کچھ محض صارفین کو کلک کرنے پر راغب کرنے کے لیے پھیلائے جا رہے تھے۔

اس تنازع کے دوران فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق عمیر بٹ عرف عمیری کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے معاملے اور عوامی ردعمل کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 496-B کے تحت حراست میں لیے جانے کی اطلاع تھی جبکہ ویڈیو سے منسلک خاتون کو بھی پولیس تحویل میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اب انعم بی بی کی مبینہ ہلاکت کی اطلاعات نے اس معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے محرکات اور حالات کا جائزہ لیے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم مبینہ غیرت کے نام پر قتل سمیت واقعے کی دیگر تفصیلات کی حتمی تصدیق متعلقہ حکام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

Related Posts