مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے بعد بظاہر جنگ کے خاتمے کی کوششیں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہیں، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایک معمولی غلطی یا کسی ایک فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پورے خطے کو دوبارہ بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے، جیسا کہ اسرائیل کی جانب سے حملے ایسی ہی خلاف ورزیوں کا تسلسل قرار دئیے جاسکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے منظر نامے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے، اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدہ صورتحال، حزب اللہ کا کردار، اور واشنگٹن کی سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جبکہ موجودہ حالات میں ایک طرف اسرائیل اور امریکا کے درمیان قریبی اتحاد برقرار ہے، جہاں واشنگٹن مسلسل فوجی، مالی اور سفارتی تعاون فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض مواقع پر امریکی قیادت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی قیادت پر دباؤ ڈالنے اور مکمل جنگ بندی کی خواہش کے اشارے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اس وقت خطے میں مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کئی دہائیوں سے اسرائیل کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں پر خرچ ہوتے رہے ہیں۔ اسرائیل کی آبادی تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے، جبکہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود واشنگٹن کو اپنے قریبی اتحادی کو مکمل طور پر اپنی پالیسی کے مطابق چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور لبنان پر جاری اسرائیلی حملے ان مشکلات کا واضح ثبوت ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کرے اور اگر واشنگٹن اپنے اتحادی کو لبنان میں حملے روکنے پر مجبور نہیں کر سکتا تو مستقبل میں ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی روک تھام کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے؟ اسی تناظر میں کئی تجزیہ کار لبنان کو امریکا کے اثر و رسوخ کا ایک عملی امتحان قرار دے رہے ہیں۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق ایران اس وقت نہ صرف سفارتی مذاکرات بلکہ عملی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لے رہا ہے۔ اگر اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھتا ہے تو تہران کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکا اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ لبنان کا محاذ اب صرف ایک سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ مستقبل کے ایران۔امریکا تعلقات کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔
بعض سابق امریکی حکام اس حکمت عملی کو خطرناک قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ایران کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کو امریکا کے ساتھ وسیع تر معاہدے کی شرط بنانا ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ حزب اللہ پر ایران کا مکمل کنٹرول نہیں جبکہ اسرائیل بھی ہر معاملے میں امریکی خواہشات کا پابند نہیں ہے۔ ایسے حالات میں دونوں تنازعات کو ایک دوسرے سے جوڑنا مستقبل میں سفارتی عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
اسی دوران بین الاقوامی بحرانوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی سمجھوتہ وقتی طور پر برقرار رہ سکتا ہے، لیکن اسے ایک جامع معاہدے میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں پر محیط بداعتمادی، جوہری اور سکیورٹی معاملات کی تکنیکی پیچیدگیاں اور دونوں جانب سے داغے جانے والے جارحانہ بیانات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی پیش رفت کو سست کر سکتے ہیں۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کئی ہفتوں تک دونوں ممالک ابتدائی مفاہمت کی سطح پر ہی رہیں گے۔
امریکا کے اندر بھی سیاسی حالات اس وقت غیر معمولی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک پائیدار جنگ بندی نہ صرف خارجہ پالیسی کی کامیابی بلکہ داخلی سیاست میں بھی اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ان کی حکومت خطے میں امن قائم کرانے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ سیاسی اعتبار سے ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی، لیکن اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات امریکی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
لبنان میں زمینی صورتحال اس وقت بھی انتہائی نازک ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنان میں کم از کم بتیس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان حملوں نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ تہران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ لبنان میں فوجی کارروائیاں رکنا وسیع تر امن معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
دوسری طرف سفارتی سرگرمیاں بھی تیزی سے جاری ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات متوقع اور ۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہونے کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا مذاکراتی وفد ان بات چیت میں حصہ لے گا۔یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک تمام تر اختلافات کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ موجودہ جنگ بندی برقرار رکھی جا سکتی ہے، اگرچہ اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے حوالے سے اختلافات موجود رہیں گے۔
ادھر ایران نے اسرائیلی حملوں کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دشمن کی جانب سے وعدہ خلافی کے جواب میں کیا گیا ہے اور اگر حملے جاری رہے تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں لبنان سب سے حساس محاذ بن کر سامنے آیا ہے۔ اگر اسرائیلی حملے جاری رہتے ہیں اور حزب اللہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا ہے تو ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایک نئی جنگ کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی مبصرین آئندہ ساٹھ دنوں کو فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔
یہ ساٹھ روز دراصل اس بات کا امتحان ہوں گے کہ آیا امریکا اپنے اتحادی اسرائیل کو جنگ بندی کی مکمل پاسداری پر آمادہ کر سکتا ہے، آیا ایران سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر تیار رہتا ہے، اور آیا لبنان ایک بار پھر بڑی جنگ کا میدان بننے سے بچ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر دونوں جانب سے تحمل اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا گیا تو موجودہ مفاہمت ایک وسیع تر امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے، لیکن اگر کسی بھی محاذ پر عسکری کارروائیاں شدت اختیار کرتی ہیں تو پورا خطہ ایک مرتبہ پھر عدم استحکام، معاشی بحران اور طویل تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ امن عمل کو صرف ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں لبنان، غزہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والا توازن آنے والے برسوں کی علاقائی سیاست اور سلامتی کی سمت کا تعین کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
