عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا؟ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

آئی ایم ایف
(فوٹو: پرافٹ بائی پاکستان)

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی جائزے کے مذاکرات کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے لیے 1.21 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق اس فنڈنگ کی حتمی منظوری ادارہ کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔ اعلامیے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول کے لیے شاندار کوششیں کی ہیں جن کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام پیدا ہوا اور ساختیاتی اصلاحات کا عمل مزید تیز ہوا ہے۔

قرض پروگرام اور فنڈز کی تقسیم

آئی ایم ایف کے ساتھ یہ مذاکرات موجودہ ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت (EFF) کے چوتھے جائزے اور موسمیاتی لچک سے متعلق آر ایس ایف (RSF) پروگرام کے تیسرے جائزے کے سلسلے میں کیے گئے۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کی پانچویں قسط کے طور پر 1 ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے فنڈ (آر ایس ایف) کی چوتھی قسط کی مد میں 21 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف کی اہم شرائط اور مطالبات

مذاکرات کے دوران عالمی ادارے نے کچھ اہم امور پر توجہ مبذول کرائی ہے:

حکومتِ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پٹرول سبسڈی اسکیم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے، اس دائرہ کار کو مزید نہ پھیلایا جائے اور اس سے صرف مستحق اور نادار افراد کو ہی مستفید کیا جائے۔

پاکستان توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے، واجبات کی وصولی کے نظام کو بہتر بنائے اور پیداواری لاگت میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

گیس کے شعبے میں وصولیوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے مالیاتی نقصانات کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

تعلیم اور صحت کے بجٹ پر آئی ایم ایف کے تحفظات

آئی ایم ایف نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ پاکستان میں صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں کے لیے اخراجات مقررہ اہداف سے کم ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں ان دونوں شعبوں پر کل معیشت کا صرف 2.2 فیصد خرچ کیا گیا جبکہ مالی سال 2026 میں یہ تناسب بڑھ کر محض 2.5 فیصد رہا۔

عالمی ادارے نے پاکستان کو نیا ہدف دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ رواں مالی سال 2027 کے دوران صحت اور تعلیم پر خرچ کا تناسب بڑھا کر معیشت کا 2.8 فیصد کیا جائے۔

Related Posts