لاہور میں چار ماہ کے کمسن موسیٰ کے اغوا کا ڈراپ سین ہو گیا جب پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچے کو نہ صرف بازیاب کروا لیا بلکہ مبینہ اغوا میں ملوث دو خواتین سمیت چار ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق مغوی بچے کو بحفاظت اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچے کی بازیابی کے لیے شاہدرہ ٹاؤن کے آپریشن ونگ اور انویسٹی گیشن پولیس نے مشترکہ طور پر کارروائی کی۔ تفتیشی ٹیموں نے مختلف پہلوؤں پر کام کرتے ہوئے مبینہ ملزمان کا سراغ لگایا اور ان کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا۔
پولیس کے مطابق چار ماہ کا موسیٰ شاہدرہ ٹاؤن کے قاضی پارک سے مبینہ طور پر اغوا ہوا تھا۔ واقعے کی تفتیش کے دوران پولیس نے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا جس کے بعد کالا شاہ کاکو کے ٹول پلازہ کے قریب کارروائی کے لیے ٹیمیں روانہ کی گئیں۔
انویسٹی گیشن انچارج نعیم شہزاد کے مطابق محمد سہیل نامی ملزم نے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے بچے کو منظور حسین کے بیٹے عمران کے حوالے کیا تھا۔ پولیس کے مطابق بعد میں محمد سہیل اپنی خواتین رشتہ داروں کے ساتھ بچے کو گجرات منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاہم پولیس نے راستے میں انہیں روک لیا اور گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں اغوا کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث چار افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے چار ماہ کے موسیٰ کو بحفاظت برآمد کیا اور بعد ازاں بچے کو اس کے خاندان کے سپرد کردیا۔
کمسن بچے کی بحفاظت واپسی پر اہل خانہ نے پولیس ٹیموں کی کوششوں کو سراہا اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔ خاندان کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی اور بچے کی بحفاظت بازیابی پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے اغوا میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انویسٹی گیشن پولیس قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








