ایک پر حملہ ہوا تو تینوں میدان میں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتادیں

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی آرمی چیف
(فوٹو: آئی ایس پی آر)

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر مسلح حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ باہمی مشاورت سے مشترکہ ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت عملی فوجی اقدامات کی تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ بننے کا خواہاں نہیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو طے کیا تھا جس کا مقصد مشترکہ دفاع، اجتماعی مزاحمت اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

Related Posts