راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے قبضے سے موبائل فونز کی برآمدگی نے جیل انتظامیہ کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دئیے جس کے بعد تین قیدیوں کو اٹک جیل منتقل جبکہ غفلت برتنے کے الزام میں پانچ جیل ملازمین کو معطل کر دیا گیا۔
جیل ذرائع سے ملنے والی اندرونی اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر اچانک کی جانے والی سخت تلاشی کے دوران انکشاف ہوا کہ کچھ قیدیوں نے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی ہے۔
تلاشی کے دوران جن قیدیوں کے قبضے سے موبائل فونز برآمد ہوئے ان میں ٹریفک وارڈن کے قتل کیس میں سزا یافتہ قیدی راجہ رعد، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے ملازم کے قتل کیس میں قید ملک حماد، اور ایک اور قیدی شاہزیب ولد اکرم شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایاکہ جیل جیسے محفوظ سمجھے جانے والے حصار میں موبائل فونز کا پہنچنا اور ان کا استعمال ہونا اندرونی سیکیورٹی سسٹم پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ جیسے ہی اس سیکنڈل کا انکشاف ہوا جیل حکام حرکت میں آئے اور فوری ایکشن لیتے ہوئے ان تینوں قیدیوں کو مزید سختی کے لیے اڈیالہ جیل سے نکال کر اٹک جیل شفٹ کر دیا گیا۔
دوسری جانب قیدیوں تک موبائل فونز کی رسائی اور چیکنگ میں ناکامی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت کے مرتکب پانچ پولیس و جیل ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد جیل کے اندر صف ماتم بچھ گئی ہے اور عملے میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








