بیرونِ ملک ملازمت کیلئے محفوظ طریقہ کیا؟ پاکستانیوں کے لیے واضح ہدایات جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بیرونِ ملک وزٹ یا ٹورسٹ ویزے پر سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ملازمت کے نام پر ہونے والے فراڈ سے محتاط رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ ایجنٹس یا سب ایجنٹس کے ایسے دعووں پر اعتماد نہ کریں جن میں بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد نوکری دلوانے یا وزٹ ویزے کو ورک ویزے میں تبدیل کروانے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔

ادارے کے مطابق بغیر تصدیق کسی ایجنٹ کے وعدے پر وزٹ یا ٹورسٹ ویزے پر بیرونِ ملک روانہ ہونا سنگین مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ عام طور پر وزٹ یا ٹورسٹ ویزا ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ ویزا تبدیل کرنے کا اختیار متعلقہ ملک کی امیگریشن اتھارٹی اور وہاں کے قوانین کے تحت ہوتا ہے۔ کسی ایجنٹ کی جانب سے ایسی تبدیلی کی ضمانت قابلِ اعتماد نہیں۔

غیر قانونی ملازمت کے سنگین نتائج

وزٹ یا سیاحتی ویزے پر بیرونِ ملک پہنچ کر غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کو قانونی کارروائی سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں:

گرفتاری، حراست اور قانونی مقدمہ

بھاری جرمانہ اور ملک بدری

طویل عرصے یا مستقل طور پر بلیک لسٹ کیے جانے کا خطرہ

مستقبل میں ویزا حاصل کرنے اور قانونی ملازمت کے مواقع متاثر ہونا

وطن واپسی کے اخراجات خود برداشت کرنا

شہریوں کو یہ بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی حیثیت میں ملازمت کرنے والے افراد استحصال کا زیادہ آسان شکار بن سکتے ہیں۔ انہیں اجرت نہ ملنے یا تنخواہ میں غیر قانونی کٹوتی، طویل اوقاتِ کار اور غیر محفوظ کام کے ماحول جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض حالات میں ملازمین کے پاسپورٹ ضبط کیے جانے، نقل و حرکت محدود ہونے اور طبی و قانونی معاونت تک رسائی میں مشکلات کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ ایسی صورتحال ذہنی دباؤ، خوف، تنہائی اور اہل خانہ کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

بیرونِ ملک ملازمت کے لیے محفوظ طریقہ کیا ہے؟

متعلقہ ادارے نے پاکستانی شہریوں کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے قانونی اور محفوظ راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر سے رابطہ کریں۔

شہریوں کو چاہیے کہ ملازمت کی پیشکش قبول کرنے سے پہلے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے لائسنس، ملازمت کی تفصیلات اور فارن سروس ایگریمنٹ کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔

کسی غیر مجاز ایجنٹ، سب ایجنٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ملازمت کے حصول کی کوشش کرتے ہوئے رقم یا اصل دستاویزات حوالے نہ کی جائیں۔ تمام ادائیگیاں قانونی ذرائع سے کرنے اور ہر ادائیگی کی باقاعدہ رسید حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

بیرونِ ملک روانگی سے قبل درست ورک ویزا، تحریری ملازمت کا معاہدہ اور دیگر ضروری دستاویزات اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے تنخواہ، کام کی نوعیت، اوقاتِ کار، رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات، چھٹیوں اور وطن واپسی سے متعلق شرائط کو اچھی طرح سمجھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بیرونِ ملک روانگی سے پہلے متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے قانونی تحفظ حاصل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ملازمت کے سلسلے میں سفر کرنے والے پاکستانی شہری قانونی طور پر محفوظ رہیں۔

Related Posts