قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن رانا محمد حیات پاور نے ملک میں لوڈشیڈنگ اور بھاری بجلی کے بلوں پر اپنی ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے بجلی کے بل ناقابلِ برداشت ہوچکے ہیں اور ایسے حالات میں دوبارہ ووٹ مانگنا مشکل ہوگا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت بجلی چوری کی روک تھام کے لیے فیڈر کے بجائے مخصوص ٹرانسفارمر کی سطح پر بجلی بند کرنے کا نظام متعارف کروانے جارہی ہے جس کا ریگولیٹری فریم ورک آئندہ سال اپریل یا مئی تک متوقع ہے۔
اویس لغاری کے مطابق ملک کے تقریباً 14 ہزار فیڈرز میں سے 3,500 فیڈرز پر چوری اور لائن لاسز کے باعث لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کیا ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی کے بعد صارفین کی جانب سے بیٹریوں کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں مختلف گرڈ اسٹیشنز، ٹرانسفارمرز اور ڈسکوز کے انفراسٹرکچر سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








