چین اور نیپال کے سرحدی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب نے کئی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں 1300 سے زائد افراد لاپتا ہیں جس میں کم از کم 300 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 160 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
شدید سیلابی ریلے نے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، متعدد دیہات زیر آب آگئے جبکہ اہم پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی بہہ گیا۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں پانی کے ایک بڑے ریلے کو آبادیوں اور عمارتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس سے امدادی کارروائیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چین کے ہنگامی امدادی اہلکار تقریباً 22 گھنٹے بعد شدید متاثرہ سرحدی علاقے کے اہم تجارتی مرکز گیرونگ پورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ خراب موسم اور راستے بند ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی طور پر 141 امدادی اہلکاروں پر مشتمل ٹیم وہاں پہنچی جبکہ ایک بلند پہاڑی علاقوں میں پرواز کرنے والا Mi-171 ہیلی کاپٹر بھی جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔
گیرونگ پورٹ چین اور نیپال کے درمیان تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ایک تہائی تجارتی سرگرمیاں اسی راستے سے وابستہ ہیں۔ سیلاب سے اس علاقے کا اہم انفرااسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے تک معطل رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
🚨 These devastating floods in #Nepal were triggered after a massive landslide dumped huge amounts of soil into the river, forcing the water to surge downstream.
Nature unleashed its full fury. 🌊💔 pic.twitter.com/WP6TicoiHO
— Silent Observer (@YousufPash69914) August 27, 2026
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق گیرونگ پورٹ کی جانب جانے والی سڑکوں پر تقریباً ڈیڑھ میٹر تک کیچڑ اور ملبہ جمع ہے جبکہ یہ صورتحال پورٹ سے تقریباً 2.5 کلومیٹر پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ امدادی کارکنوں کو راستے صاف کرنے کے ساتھ ساتھ پہاڑی تودے گرنے کے مسلسل خطرے کا بھی سامنا ہے۔
This is not a movie scene. Flash floods in Nepal tore a bridge apart in seconds — span after span gone. Brutal footage from the Trishuli River.#PrayForNepal #Nepal pic.twitter.com/se5JvkWMk6
— ✦ 𝐇𝐫𝐢𝐝𝐲𝐚𝐗+ ✦ (@Sukkushetty1988) August 26, 2026
گیرونگ پورٹ چین اور نیپال کے درمیان ایک اہم ٹرانسپورٹ مرکز ہونے کے باعث امدادی سرگرمیوں کا مرکزی مقام بنا ہوا ہے۔ چین کے مطابق گیرونگ کاؤنٹی میں 550 سے زیادہ افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایک مقامی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پورٹ کے اطراف مواصلاتی نظام اب بھی منقطع ہے جس کے باعث حکام گزشتہ روز جائے وقوعہ پر جانے والے اعلیٰ انتظامی افسران اور امدادی ٹیموں سے بھی رابطہ قائم نہیں کر سکے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق متاثرہ علاقے میں سینکڑوں امدادی اہلکار بھیجے جاچکے ہیں اور امدادی ٹیمیں سڑکیں بحال کرنے، ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم مسلسل خراب موسم، سڑکوں پر موجود ملبے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل صورتحال میں جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








