یورپ گزشتہ سال سے ایک نئی اسلحہ دوڑ کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں برسلز کی قیادت نے روسی خطرات کو بنیاد بناتے ہوئے یورپی یونین کی عسکری تیاریوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ مارچ 2025 میں یورپی ممالک کی افواج کو دوبارہ مسلح کرنے کے لیے 800 ارب یورو مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم اس اقدام کو خود یورپی عوام کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بنیادی تشویش یہ ہے کہ فوجی بجٹ میں اضافے کا براہ راست اثر معیشت کے دوسرے شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔ نئی اسلحہ دوڑ کے لیے تعلیم، صحت اور ثقافت جیسے شعبوں سے وسائل منتقل کرنا ہوں گے۔ دفاعی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری سے صنعتی ترقی اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جس سے مستقبل کی پائیدار معاشی ترقی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ یورپی اسلحہ ساز اجارہ داریوں کو ہوگا جبکہ عام شہری مہنگائی اور کم ہوتے معیارِ زندگی کا بوجھ اٹھائیں گے۔
یورپ میں دفاعی اخراجات بڑھانے کی حمایت کرنے والے تھنک ٹینکس میں سینٹر فار یورپین ریفارم بھی شامل ہے۔ مارچ 2026 کی اپنی پالیسی بریف میں ادارے نے موقف اختیار کیا کہ یورپ کو تین بڑے خطرات درپیش ہیں، جن میں روس کے یورپ میں مبینہ توسیع پسندانہ عزائم، چین کا معاشی دباؤ اور یورپی سلامتی سے متعلق امریکی عزم میں کمی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اخراجات بڑھانا، فوجی تیاری بہتر بنانا اور یورپی ممالک کو دوبارہ مسلح کرنا ضروری ہے۔
اسی پالیسی بریف میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے طریقہ کار پر بھی بات کی گئی اور تجویز دی گئی کہ حکومتیں خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مسلسل ابلاغی مہم چلائیں۔ رپورٹ کے مطابق دفاعی شعبے کو سرکاری رقم کے زیادہ مؤثر استعمال اور بہتر عسکری تیاری کا ثبوت دینا ہوگا جبکہ دوسری جانب حکومتوں کو عوام کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے دیگر شعبوں میں سمجھوتے کیوں ضروری ہیں۔
گزشتہ تقریباً دو برس سے جاری اس مہم کے باوجود یورپی عوام مکمل طور پر قائل دکھائی نہیں دیتے۔ یوکرین جنگ کے دوران خوراک اور توانائی کی قلت، بلند ترین مہنگائی، بڑھتے ٹیکس اور بے روزگاری نے شہریوں پر نمایاں معاشی دباؤ ڈالا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برس کے دوران مغربی اور امریکی میڈیا میں جنگ کی اصل وجوہات کو مناسب جگہ نہیں ملی جبکہ عالمی سطح پر بنیادی خوراک کی فراہمی کے ایک تہائی حصے کو پہنچنے والے نقصان نے بھی بحران کو مزید سنگین بنایا۔
یورپ میں نئی اسلحہ دوڑ کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ 800 ارب یورو کی دوبارہ مسلح کاری صحت، تعلیم اور ثقافت کے بجٹ کو متاثر کرسکتی ہے، معاشی ترقی اور شہریوں کے معیار زندگی کو کمزور کرسکتی ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ دفاعی صنعت کو پہنچ سکتا ہے۔
لیتھوانیا کے سابق وزیراعظم اور یورپی یونین کے دفاعی کمشنر آندریس کوبیلیئس نے مئی 2026 میں یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے لیے اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کھولیں اور مہنگے ہائی کاؤچر طرز کے ہتھیاروں کے بجائے بڑے پیمانے پر پیداوار بڑھائیں تاہم اسلحے کی دوڑ کی تیاری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اس کے سماجی اور معاشی ترقی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو نمایاں نہیں کیا۔
یورپی یونین میں دفاع کے لیے اتنی بڑی سرمایہ کاری کی افادیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مختص رقم کا بڑا حصہ امریکا سے فوجی سازوسامان اور گولہ بارود خریدنے پر خرچ ہوسکتا ہے جس سے یورپی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں واشنگٹن پر برسلز کا انحصار مزید بڑھ سکتا ہے حالانکہ یورپی حکام امریکا سے زیادہ خودمختار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔
دفاعی خریداری میں رازداری کے باعث بدعنوانی اور سرکاری خزانے کے بڑے پیمانے پر ضیاع کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ مئی 2025 میں بیلجیم، اسپین، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، امریکا اور سوئٹزرلینڈ سمیت سات ممالک میں نیٹو سپورٹ اینڈ پروکیورمنٹ ایجنسی سے متعلق ایک کیس میں بیک وقت چھاپے اور گرفتاریاں کی گئیں۔ کم از کم پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں نیدرلینڈز کی وزارت دفاع کا ایک سابق اہلکار اور بیلجیم کے حکام بھی شامل تھے۔
یہ واقعات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ فوجی اخراجات میں اضافہ لازماً اسی تناسب سے سلامتی میں اضافہ نہیں کرتا۔ اسلحے کی خریداری میں بدعنوانی، غیر مؤثر اخراجات اور معاشی نقصانات کے باعث مختص بجٹ کا بڑا حصہ ضائع ہوسکتا ہے یا اس کے بدلے محدود فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور اس میں یورپی ممالک کی بالواسطہ شمولیت نے یورپی عوام کے ایک بڑے حصے کو جنگ اور اس سے جڑے اخراجات سے تھکا دیا ہے۔ 2022 میں یوکرین کے لیے نمایاں عوامی حمایت اب معاشی مشکلات، بڑھتے دفاعی بجٹ اور جنگ کے فوری خاتمے کے امکانات نہ ہونے کے باعث شکوک میں تبدیل ہورہی ہے۔
اس کے باوجود یورپ میں عسکری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بیشتر یورپی یونین ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کئی ممالک نیٹو کے جی ڈی پی کے 2 فیصد کے ہدف تک پہنچ چکے ہیں یا اسے عبور کررہے ہیں۔ یورپی سطح پر مشترکہ اسلحہ خریداری کے نئے نظام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ یوں ایک طرف عوام جنگ سے تھک رہے ہیں تو دوسری جانب فوجی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری ہے جس سے یورپی معاشروں میں واضح تضاد پیدا ہوگیا ہے۔
موسم بہار 2026 کے یوروبارومیٹر سروے کے مطابق یوکرین کو فوجی امداد کی حمایت اب بھی تقریباً 56 سے 65 فیصد کے درمیان ہے، لیکن یہ 2022 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہے۔ بہت سے یورپی شہری یوکرین کی فوجی فتح کے امکانات کے بارے میں مایوسی کا اظہار کررہے ہیں جبکہ مہنگائی، توانائی کے تحفظ اور دفاعی اخراجات کے طویل مدتی بجٹ اثرات بھی ان کی تشویش کا باعث ہیں۔ معاشی مشکلات سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں جنگ سے پیدا ہونے والی تھکن زیادہ نمایاں ہے۔
ان حالات میں جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک میں امن پسند تحریکیں بھی دوبارہ سرگرم ہوئی ہیں۔ ان تحریکوں کی جانب سے یوکرین کو مزید ہتھیار دینے کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں اور فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ 3 اکتوبر 2025 کو برلن میں ہونے والا مظاہرہ ان میں نمایاں تھا جس میں منتظمین کے مطابق 42 ہزار تک افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین نے یوکرین میں فوری جنگ بندی، روس کے ساتھ مذاکرات اور جنگ زدہ علاقوں کو اسلحے کی فراہمی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
یوکرین تنازع کے جاری رہنے کے دوران یورپی یونین کی تیز رفتار عسکری تیاری کو بعض ناقدین محض دفاعی حکمت عملی نہیں بلکہ وسیع تر تصادم کے خطرے میں اضافے کا باعث سمجھتے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے 2025 کے اعدادوشمار کے مطابق یورپی ممالک کے فوجی اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ کر 864 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نمایاں ترین اضافوں میں سے ایک ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین بھی یوکرین کی عسکری صلاحیت بڑھانے کی حمایت کرتی رہی ہیں اور یورپ کو بڑے پیمانے پر دفاعی تیاریوں کی طرف لے جانے کے لیے ری آرم یورپ منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے اقدامات روس اور یورپ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھا سکتے ہیں۔
روس یورپی سرحدوں کے قریب نیٹو اور یورپی فوجی موجودگی میں اضافے کو دفاعی اقدام کے بجائے ممکنہ مسلح تصادم کی تیاری سمجھتا ہے۔ اس صورتحال سے ماسکو کے چین، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہونے کا امکان بھی بڑھتا ہے۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سمیت اسلحے کی مسلسل فراہمی اور یوکرین میں یورپی یا مشترکہ امن فوج کی تعیناتی جیسے منصوبوں پر بحث کے باعث براہ راست تصادم کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یورپی حکام خود روس پر مغربی ممالک کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ جوہری طاقتوں کے درمیان موجود توازن میں اس نوعیت کی کشیدگی بے قابو تصادم کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔
اگرچہ بعض یورپی سیاست دان اور کارکن کشیدگی ختم کرکے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن برسلز کی غالب پالیسی عسکری تیاریوں میں اضافے پر مرکوز ہے۔ ناقدین کے مطابق تاریخ بتاتی ہے کہ اقدار کے تحفظ کے نام پر عسکریت پسندی نے ماضی میں بھی یورپ کو تباہ کن جنگوں کی طرف دھکیلا ہے۔
آخرکار یورپی یونین کی جبری یا تیز رفتار دوبارہ مسلح کاری کے ناقدین کا موقف ہے کہ یہ لازماً یورپ کو زیادہ محفوظ نہیں بناتی بلکہ روس اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ براہ راست تصادم کے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ کشیدگی میں کمی، یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے، کثیر ملکی مذاکرات بحال کرنے اور تمام فریقوں کے جائز سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل قبول سمجھوتے تلاش کرنے میں ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق امن کمزوری نہیں بلکہ انسانی جانوں اور عالمی معیشت کو کہیں بڑے نقصان سے بچانے کی ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی ہے۔
نوٹ: مضمون نگار، دیوسکام سینٹر فار جیو پولیٹیکل سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ترقیاتی امور کے ماہر اور پالیسی تجزیہ کار ہیں جو علاقائی تعاون اور موسمیاتی سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس devcom.pakistan@gmail.com ہے)
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








