وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی، شرجیل میمن کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ بدترین دھاندلی کی گئی، جبکہ وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر مسلم لیگ (ن) کے حق میں نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہرانے کے لیے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کا مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی وفاقی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ کشمیر کے انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور ان میں کشمیری عوام کے مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے، مگر اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے مفادات کو فوقیت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آخری مرحلے تک انتخابی عمل میں موجود رہی اور متعلقہ فورمز پر اپنے تحفظات اور شواہد کے ساتھ رجوع کرے گی۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات میں 2024 کے عام انتخابات کی تاریخ دہرائی گئی اور الیکشن کمیشن نے غیر جانبدار کردار ادا نہیں کیا۔

شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ ایل اے 27 میں موسم کو جواز بنا کر پولنگ ملتوی کی گئی، حالانکہ ان کے بقول اس روز موسم صاف تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی سامان بروقت نہیں پہنچایا گیا، جبکہ ایل اے 31 میں صدر آزاد کشمیر پر حملے اور مبینہ فائرنگ کے واقعات کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

وزیر اطلاعات سندھ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایل اے 9 نکیال میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس کو قتل کیا گیا، جبکہ بیلٹ پیپرز مبینہ طور پر دو روز پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں تک پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے رانا ثناء اللہ سمیت وفاقی حکومت کے رہنماؤں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ تکبر پر مبنی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 2024 کے عام انتخابات کے بعد وفاقی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا کیونکہ ان کے بقول یہ “فارم 47 کی حکومت” تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب وفاقی حکومت کی “الٹی گنتی” شروع ہو چکی ہے۔

مسلم لیگ (ن)، الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنے کی صورت میں مؤقف شامل کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts