شہرِ قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں پیش آنے والے ہولناک قتلِ عام کا سنسنی خیز ڈراپ سین سامنے آ گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد انکشاف کیا ہے کہ خاتون اور اس کے تین بچوں کو کسی اور نے نہیں بلکہ مقتولہ کے شوہر کے بہنوئی ہمایوں نے ہی سفاکی کے ساتھ قتل کیا تھا۔ ملزم نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کئی ہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
چار گھنٹے تک گھر میں کیا ہوتا رہا؟
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق سفاک ملزم ہمایوں وقوعہ کے روز دوپہر دو بجے کے قریب گھر میں داخل ہوا اور شام چھ بجے تک وہیں موجود رہا۔ اس نے چار گھنٹے تک گھر کے اندر خونی کھیل کھیلا اور واردات کے بعد تمام شواہد کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نے اپنی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے تمام موبائل فونز بند کر دیے تھے تاکہ کوئی اس کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگا سکے۔ وہ چنگچی رکشے پر سوار ہو کر مقتولہ کے گھر کے قریب اترا اور وہاں سے پیدل گھر کے اندر داخل ہوا۔
گھناؤنا جرم اور معصوم بچوں کی جانیں
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ہمایوں مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا اور اس نے قتل سے پہلے زیادتی کی گھناؤنی کوشش بھی کی۔ اس دوران جب گھر میں موجود اٹھارہ ماہ کی ننھی بچی نے ڈر کے مارے رونا شروع کیا، تو ملزم نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اسے اٹھا کر دیوار پر دے مارا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
اسی دوران سہ پہر تین بجے کے قریب جب مدرسے سے پڑھ کر دونوں بچے گھر واپس لوٹے تو ملزم (جو رشتہ میں ان کا پھوپھا لگتا تھا) نے خود دروازہ کھولا۔ بچوں کے اندر آتے ہی درندہ صفت باپ نے انہیں بھی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
شواہد مٹانے کی ماہرانہ کوشش اور فرار
ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ چاروں افراد کو قتل کرنے کے لیے لوہے کے سریے کا استعمال کیا گیا۔ قتل کی واردات کو انجام دینے کے بعد ملزم نے آلہِ قتل (سریے) اور اپنے خون آلودہ ہاتھوں کو گھر کے واش روم میں اچھی طرح دھویا، خود کو صاف کیا اور بالکل پُرسکون ہو کر شام 6 بجے گھر سے فرار ہو گیا۔
ملزم نے کرائم سین کو اس صفائی سے صاف کیا تھا کہ ابتدائی طور پر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ واردات ڈکیتی یا چوری کی کوشش کے دوران مزاحمت پر کی گئی ہو۔
گرفتاری اور سنسنی خیز انجام
پولیس کے مطابق نیو کراچی کا رہائشی ملزم ہمایوں سرجانی ٹاؤن سے فرار ہو کر جب اپنے گھر پہنچا تو اس نے راستے میں ہی قتل میں استعمال ہونے والا سریہ ایک نالے میں پھینک دیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جب ملزم اپنے گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے اسے واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ بھابھی اور تینوں بچوں کو قتل کر دیا گیا ہے جس پر ملزم ایسے ظاہر کرتا رہا جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ پولیس نے تمام شواہد اور ملزم کے اعترافِ جرم کے بعد مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








