ریلوے پولیس اور کے ایم سی کا تنازعہ! ریلوے افسران کی رہائش گاہوں کے باہر کچرے کا ڈھیر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی کے علاقے ناتھا خان سے گلستانِ جوہر تک سڑک کی تعمیر کے معاملے پر پاکستان ریلوے اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ تنازع کے دوران ریلوے افسر کے گھر اور مختلف ریلوے دفاتر کے باہر کچرا پھینکے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں تاہم متعلقہ حکام تاحال یہ معلوم نہیں کرسکے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہے اور کچرا کس مقصد کے تحت ڈالا گیا۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ڈی ایس ریلوے کی رہائش گاہ کے دروازے پر بھی کچرا پھینکا گیا جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ریلوے دفاتر اور شارع فیصل پر ڈرگ روڈ کے قریب بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق کچرا پھینکنے کے معاملے پر اب تک کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی گئی۔

دوسری جانب سڑک کی تعمیر کے تنازع پر کے ایم سی سٹی وارڈنز کے ڈائریکٹر سائم عمران کی شکایت پر ریلوے پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا اور تشدد کا مقدمہ شاہراہ فیصل تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق سائم عمران نے الزام عائد کیا کہ کینٹ تھانے کے ایس ایچ او احسن رشید دیگر اہلکاروں کے ہمراہ تعمیراتی مقام پر پہنچے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم مقام پر لے گئے۔

شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ وہاں ان کی تذلیل کی گئی اور انکار پر مزید تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگئے۔ ان کے مطابق بعد میں انہیں عباسی شہید اسپتال میں ہوش آیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ادھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے ریلوے پولیس کے ایس ایچ او احسن رشید کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

وکیل صفائی محمود حسین کے مطابق کے ایم سی نے تحریری یقین دہانی کے باوجود ریلوے ٹریک پر سڑک بنانے کی کوشش کی، جبکہ تعمیراتی کام روکنے پر ریلوے پولیس کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کے ایم سی افسران کے خلاف کینٹ تھانے میں مقدمہ درج ہے۔

تنازع ناتھا خان پل سے پہلوان گوٹھ اور حبیب یونیورسٹی تک چکور نالے کے متوازی تعمیر ہونے والی دو رویہ سڑک سے متعلق ہے۔ تقریباً 78 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری منصوبے کا مقصد شاہراہ فیصل، راشد منہاس روڈ، ڈالمیا روڈ اور گلستانِ جوہر پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے۔

پاکستان ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق متعلقہ زمین کراچی سرکلر ریلوے کی ملکیت ہے اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث تنازع پیدا ہوا جبکہ کے ایم سی نے منصوبے میں رکاوٹ پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تعمیر شروع کرنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔

کے ایم سی ترجمان کے مطابق ادارے کے سینئر حکام ریلوے انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور معاملے کے حل کی کوششیں جاری ہیں۔ ریلوے حکام بھی واقعے سے متعلق معلومات جمع کررہے ہیں جبکہ زمین کی ملکیت اور تعمیراتی کام کی قانونی حیثیت پر اختلاف برقرار ہے۔

Related Posts