پنجاب کے شہر ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی گاڑی تلے کچلے جانے سے موت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق لڑکا مبینہ طور پر تشدد سے بچنے کے لیے بھاگ رہا تھا کہ کار سوار افراد نے اس کا تعاقب کیا اور اسے گاڑی سے ٹکر مار دی۔
واقعہ 19 اکتوبر کی شام نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں پیش آیا۔ گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں ایک لڑکے کو گلی میں دوڑتے اور ایک کار کو اس کے پیچھے آتے دیکھا جا سکتا ہے۔ گاڑی کی ٹکر سے لڑکا گھر کے گیٹ کے قریب گر پڑا جس کے بعد دو افراد کار سے باہر نکلے۔
پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ گرفتار ملزم جو مبینہ طور پر گاڑی چلا رہا تھا کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا جبکہ دوسرا ملزم تاحال مفرور ہے۔

پولیس کے مطابق وسیم کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا اور وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔ رشتہ داروں کے مطابق ان کے والد کی وفات کے بعد دونوں بھائیوں کو تقریباً پانچ سال قبل یتیم خانے میں داخل کروایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وسیم کو واقعے سے تقریباً سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا جو مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ وسیم کے نانا غلام شبیر نے الزام لگایا ہے کہ ٹھیکیدار یتیم خانے کے بچوں سے تربیت کے نام پر کام لیتا اور انہیں سستی افرادی قوت سمجھتا تھا۔

دوسری جانب یتیم خانے کے انچارج جواد حیدر کے مطابق بچوں کو ہنر سکھانے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے مختلف افراد کے پاس بھیجا جاتا ہے تاہم انہیں وسیم کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا علم نہیں تھا۔

ملتان کے سٹی پولیس آفیسر اختر فاروق کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ یتیم خانے کی انتظامیہ سے یہ معلوم کر رہی ہیں کہ بچوں کو نجی افراد کے پاس بھیجنے کا کیا طریقہ کار تھا اور آیا اس سلسلے میں کوئی معاہدہ موجود تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ غفلت ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








