کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر عوام مشتعل! احتجاج کے دوران 3 پولیس اہلکار زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے منگھوپیر روڈ پر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا۔ مظاہرین نے سڑک بند کرکے احتجاج کیا جس کے باعث اطراف کی شاہراہوں پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ پولیس کے مطابق مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوئے۔

زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ہیڈ کانسٹیبل سعد الرحمٰن جبکہ کانسٹیبل غلام رسول اور شہباز علی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے تینوں اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔

منگھوپیر روڈ پر ٹریفک متاثر

احتجاج کے باعث منگھوپیر روڈ اور قریبی راستوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ سڑک بند ہونے سے شہریوں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا جبکہ علاقے کے رہائشیوں نے بھی آمدورفت میں شدید مشکلات کی شکایت کی۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والا یہ احتجاج شہر کے مختلف علاقوں میں جاری مظاہروں کی کڑی ہے۔ شہری کئی علاقوں میں بجلی اور پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پتھراؤ میں ملوث مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ پتھراؤ کرنے والے افراد کی شناخت ہوسکے۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

کے الیکٹرک کا موقف

کے الیکٹرک نے منگھوپیر کے احتجاج پر مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے بعض فیڈرز پر لائن لاسز 80 فیصد سے بھی زیادہ ریکارڈ ہوئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق بجلی چوری، غیر قانونی کنکشنز یعنی کنڈا سسٹم اور بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی ان نقصانات کی بڑی وجوہات ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی علاقے میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ وہاں بجلی چوری اور لائن لاسز کی شرح سے منسلک ہوتا ہے۔ کے الیکٹرک نے منگھوپیر کے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کے بل بروقت ادا کریں۔

کے الیکٹرک کے مطابق اس کی پالیسی میں 70 سے 80 فیصد تک لائن لاسز والے علاقوں میں طویل اور پہلے سے اعلان کردہ لوڈشیڈنگ کی اجازت ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان علاقوں کے آس پاس باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین بھی زیادہ لائن لاسز کا نقصان برداشت کرتے ہیں۔

پولیس کی تحقیقات جاری

منگھوپیر کا واقعہ کراچی میں بجلی کے بحران کے ساتھ عوامی تحفظ اور ٹریفک کی صورتحال پر بھی نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکام پر دباؤ ہے کہ ٹریفک بحال کرنے کے ساتھ مزید تصادم کے امکانات کو بھی روکا جائے۔

پولیس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اپنی پالیسی کا دفاع کیا ہے۔ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے حل کی ضرورت ہے جس میں شہریوں، مسافروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

Related Posts