صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ غربت میں کمی کے لیے موثر سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک منصفانہ رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ہر شہری کے لیے بہتر زندگی اور محفوظ مستقبل کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔
غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ضرورت مند خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور تعلیم، صحت اور مناسب رہائش تک رسائی بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہر خاندان کو ایسے حقیقی مواقع ملنے چاہئیں جن کی مدد سے وہ اپنے حالات بہتر بنا سکے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔
صدر آصف علی زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو ملک میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام معاشی مشکلات سے دوچار گھرانوں، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے اور معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ غربت میں مستقل کمی کے لیے مالی امداد کے ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جو خاندانوں کو اپنے ذرائع آمدن بہتر بنانے اور خود کفالت کی جانب بڑھنے کے قابل بنائیں۔
سب کے لیے محفوظ گھر اہم ترجیح ہے
صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے لیے مقرر کردہ اس سال کا موضوع سب کے لیے محفوظ گھر پاکستان کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان آفات نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو گھروں، روزگار اور نسلوں کی محنت سے جمع کیے گئے اثاثوں سے محروم کر دیا۔ صدر نے متاثرہ خاندانوں، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اچانک چھت سے محروم ہونے والے افراد کی تکالیف کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر
صدر آصف علی زرداری نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے حکومت سندھ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل 21 لاکھ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق منصوبے کے تحت بڑی تعداد میں مکانات مکمل ہوچکے ہیں جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کا عمل جاری ہے۔
تھرپارکر میں ترقی کا معیار عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے
صدر مملکت نے کہا کہ تھرپارکر جیسے علاقوں میں ترقی کی کامیابی کو اس بنیاد پر پرکھنا چاہیے کہ اس سے مقامی آبادی کی زندگیوں میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔
انہوں نے صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور روزگار کے قابل اعتماد مواقع کی فراہمی کو معاشی مشکلات میں گھرے خاندانوں کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے حقیقی ثمرات لوگوں کے بہتر معیار زندگی اور اپنے خاندانوں کے اخراجات پورے کرنے کی زیادہ صلاحیت کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔
معاشی مساوات اور محنت کشوں کے حقوق پر زور
صدر آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں متعارف کرائی گئی زرعی اصلاحات اور مزدوروں سے متعلق اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی عدم مساوات کم کرنے اور محنت کشوں اور مزارعین کی حیثیت بہتر بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے یہ اقدامات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ معاشی ترقی کے فوائد عام شہریوں تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات بہتر زندگی گزار سکیں۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا، ضروری طبی سہولیات حاصل کرنا اور مناسب رہائش کا بندوبست کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ غربت میں کمی کے لیے پالیسیوں اور اقدامات میں ان روزمرہ مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت مند افراد کو عملی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، صدر کا خوشحال پاکستان کا خواب
صدر آصف علی زرداری نے غربت کے خاتمے کے لیے سماجی تحفظ، باعزت روزگار اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاندان کو اپنے حالات بہتر بنانے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے حقیقی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدر مملکت نے ایک ایسے پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، کوئی ماں اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ نہ ہو، کوئی بزرگ مشکلات میں تنہا نہ رہ جائے اور کسی نوجوان کو بہتر زندگی بنانے کے موقع سے محروم نہ ہونا پڑے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








