حکومتِ پاکستان نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرول کی قیمت میں صرف 1 روپے 70 پیسے کی کمی کی ہے جبکہ درآمدی لاگت اور عوام سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان اب بھی بہت بڑا فرق موجود ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت 392 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جو پہلے 393 روپے 75 پیسے تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 12 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 418 روپے 96 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
اصل صورتحال کیا ہے؟
حکومت خود اعتراف کر رہی ہے کہ پٹرول کی درآمدی لاگت کم ہو کر صرف 281 روپے 49 پیسے فی لیٹر رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود عوام سے 392 روپے 5 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔
یعنی حکومت عالمی منڈی سے تقریباً 281 روپے کا پیٹرول خرید کر غریب عوام کو 392 روپے میں بیچ رہی ہے جو تقریباً 110 روپے فی لیٹر کا اضافی بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
قیمت کا تفصیلی حساب
پٹرول پر عائد حکومتی لیویز اور مارجن درج ذیل ہیں۔
پٹرولیم لیوی: 80 روپے فی لیٹر
کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 5 روپے فی لیٹر
کسٹمز ڈیوٹی: 23 روپے 68 پیسے فی لیٹر
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن: 7 روپے 87 پیسے
ڈیلرز کا منافع: 9 روپے 98 پیسے
ان لینڈ فریٹ (IFEM): 7 روپے 71 پیسے
ان تمام لیویز اور مارجن کے بعد بھی عوام کو بہت مہنگا پیٹرول مل رہا ہے۔
عالمی قیمتوں کا حوالہ
اوگرا کے مطابق پٹرول کی اوسط عالمی قیمت 132.30 ڈالر فی بیرل ریکارڈ ہوئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اوسط قیمت 121.34 ڈالر فی بیرل رہی۔ پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کی 80 فیصد سے زائد ضرورت درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے اس لیے عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست عوام تک نہیں پہنچایا جا رہا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ خود اپنے خزانے میں ڈال رہی ہے اور غریب عوام پر مسلسل ظلم ڈھا رہی ہے۔ معمولی سی کمی سے عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








