وزیراعظم سوالات کی زد! انٹیلی جنس چیف کی گرفتاری سے حکومتی ایوانوں میں مچی ہلچل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ تیرانا ٹائمز)

البانیا کے سیاسی اور سیکورٹی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ملک کی ریاستی انٹیلیجنس سروس کی سربراہ ولورا ہیسینی نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ایک سنگین معاملے نے ملک کے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق انسدادِ بدعنوانی اور منظم جرائم کے خلاف سرگرم خصوصی ادارے (SPAK) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ولورا ہیسینی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ تحقیقاتی اداروں کو شک ہے کہ موصوفہ نے ملک کے اہم ڈیجیٹل ادارے نیشنل ایجنسی فار دی انفارمیشن سوسائٹی سے جڑے کرپشن اسکینڈل کی تفتیش کے دوران حساس اور خفیہ معلومات غیر متعلقہ افراد تک پہنچائیں۔

گرفتاری اور برطرفی کا فیصلہ

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ولورا ہیسینی نے مورینا سرحدی چوکی (جو البانیا اور کوسوو کو ملاتی ہے) پر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کر دیا۔ عدالت کی جانب سے ان کے خلاف سخت احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں عہدے سے معطل کرکے گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کی زد میں سائنٹیفک پولیس انسٹی ٹیوٹ کا ایک اعلیٰ افسر بھی آ چکا ہے جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حکومت کے لیے نئی مشکلات

یہ سارا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت پہلے ہی کئی سوالات کی زد میں ہے۔ ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معاملات دیکھنے والے ادارے میں فنڈز کے مبینہ غبن پر اب تک کئی بڑے ناموں اور کاروباری شخصیات پر شکنجہ کسا جا چکا ہے۔

بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے صدر بجرام بیگاج نے فوری طور پر ایک صدارتی فرمان پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے تحت ولورا ہیسینی کو ان کے عہدے سے باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اسکینڈل موجودہ حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں مزید سیاسی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

Related Posts