لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ایس پی عبداللہ مبینہ طور پر اپنے ہی ماتحت عملے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر عدالت میں نہ پڑھ سکے جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا۔
سینئر صحافی افضل سیال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ سماعت ایس پی عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے تاہم وہ اپنے ہی محرر کی تحریر کردہ ایف آئی آر پڑھنے سے قاصر رہے۔
یہ ہیں سی ایس ایس پاس ایس پی عبداللہ صاحب جن سے آج کمرہ عدالت میں ایف آئی آر نہیں پڑھی گئی تو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا!
دلچسپ
ایس پی عبداللہ صاحب اپنے ہی محرر کی لکھی ایف آئی آر کمرہ عدالت میں نہ پڑھ سکے
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کل آئی… pic.twitter.com/a8OlCZl3p2
— Afzal sayal (@aliafzalsayal) September 23, 2026
سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ ایف آئی آر پڑھی نہیں جا رہی، سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا لکھا ہے، ایس پی صاحب ایف آئی آر پڑھیں۔
رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آئندہ روز عدالت میں طلب کرلیا۔
عدالت میں مبینہ طور پر ایف آئی آر کے غیر واضح اور ناقابلِ فہم متن پر بھی سخت ریمارکس دیے گئے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ پورے پنجاب کا بیڑا غرق ہے، پنجاب میں یہی حال ہے۔
سینئر صحافی افضل سیال کی پوسٹ کے مطابق چیف جسٹس نے ایف آئی آر کی تحریر کے حوالے سے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے ایف آئی آر کے متن کی ظاہری حالت پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر میں مکھیاں بنی ہوئی ہیں، مکھیوں کا سائز بھی بڑا ہوتا ہے۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور عدالت کی آئندہ سماعت میں ہونے والی کارروائی سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید صورتِ حال واضح ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








