آئیے ایرانی ریال خریدیں، راتوں رات 3 گنا منافع کیسے حاصل کیاجاسکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایرانی ریال
(فوٹو: دی نیشن)

ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد ایک مرتبہ پھر ایرانی ریال کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس کی قدر بھی بتدریج بہتر ہو رہی ہے، جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو راتوں رات 3 گنا منافع حاصل کرنے کے طریقے میسر آگئے۔ 

تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکا کے مابین امن سمجھوتے اور ایران پر عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی توقعات کے باعث ایرانی کرنسی میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ اسی وجہ سے متعدد افراد منافع کمانے کی امید میں ایرانی ریال کی خریداری اور اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایرانی ریال میں سرمایہ کاری واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کو اس سے کس حد تک منافع حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس موضوع پر ایک مقامی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے اپنی رائے اور تجزیہ پیش کیا۔

ملک بوستان کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں حالیہ تیزی کی ایک بڑی وجہ ماضی کا تجربہ بھی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2016 میں جب سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ایران پر عائد بعض پابندیاں نرم کی گئی تھیں تو ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے تھی، جو بعد میں بڑھتے بڑھتے 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کئی سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ شرح ایک لاکھ روپے تک جا سکتی ہے، لیکن 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔موجودہ حالات بھی کسی حد تک اسی نوعیت کے ہیں۔ 28 فروری کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی آنے سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت 10 سے 13 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان تھی، تاہم حالات خراب ہونے اور معاہدہ نہ ہونے کے بعد یہ گر کر تقریباً دو ہزار روپے تک آ گئی۔

اب دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس کی قیمت دوبارہ بڑھ کر چار ہزار روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ملک بوستان نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اگر ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور منجمد اثاثے بھی واپس مل جاتے ہیں تو ایرانی ریال کی قدر دوبارہ 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان جا سکتی ہے۔

اسی توقع کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اگرچہ اس رجحان میں زیادہ تر چھوٹے سرمایہ کار شامل ہیں۔ملک بوستان کے بقول ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کے ساتھ مواقع بھی موجود ہیں اور خطرات بھی۔ اگر معاہدہ ناکام ہو جائے یا دوبارہ جنگی صورتحال پیدا ہو جائے تو کرنسی کی قیمت دوبارہ دو ہزار روپے تک گر سکتی ہے، جبکہ معاہدہ کامیاب رہنے کی صورت میں اس کی مالیت 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو ترجیح دیں اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے گریز کریں۔ ان کے مطابق موجودہ نرخوں پر خریداری کے بعد اگر قیمت 6 یا 8 ہزار روپے تک پہنچ جائے تو فروخت کر کے مناسب منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر معمولی منافعے کی امید میں زیادہ رسک نہ لیا جائے اور سرمایہ کاری بھی محدود رکھی جائے۔ ان کے مطابق 10 ہزار، 50 ہزار یا زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری مناسب ہو سکتی ہے۔

Related Posts