الیکشن کالعدم ہونے کے باوجود قاسم سوری کیسے ڈھائی سال سے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر موجود ہیں ؟

NA Deputy Speaker Qasim Suri resigns

سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر تنازعات کو جنم دینے اور عدالتی احکامات کو چیلنج کرنیوالے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اسپیکر اسد قیصر اور پی ٹی آئی ارکان کے مستعفی ہونے کے باوجود تاحال ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر براجمان ہیں۔

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو چیلنج کرنیوالے قاسم سوری نااہلی کے باوجود ڈھائی سال تک ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر کیسے برقرار رہے۔

قاسم سوری کون ہیں ؟
قاسم خان سوری جنوری 1969ء کو کوئٹہ کے خلجی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے،ان کے والد کا طب کا کاروبار تھا جو 1997ء میں والد کی وفات کے بعد انہوں نے سنبھالا۔قاسم خان سوری نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ اسلامیہ اسکول سے حاصل کی اور 1988ء کو فیڈرل گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ 1990ء میں سیاسیات میں بیچلر کی سند اور 1992ء میں بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی سند، دونوں جامعہ بلوچستان سے حاصل کی۔

عملی سیاست کا آغاز
قاسم خان سوری 1996ء سے تحریک انصاف کیساتھ منسلک ہوئے اور2007ء سے فعال رکن بنے۔2013ء کے عام انتخابات میں کوئٹہ کے حلقہ این 259 سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے لیکن ناکامیاب رہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں 16ہزار6 ووٹ حاصل کیے ۔

قاسم خان سوری نے 2018ء کے عام انتخابات میں حلقہ این 256 (کوئٹہ-2) سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر 25ہزار973 ووٹ لے کرنوابزادہ لشکری رئیسانی کو شکست دی۔

15 اگست 2018ء کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکرمنتخب ہوئے۔ انہوں نے 183 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل اسعد محمود کو شکست دی۔

قاسم سوری کیخلاف ٹربیونل کا فیصلہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کو چیلنج کیا اور 27 ستمبر 2019کو الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے فیصلہ سناتے ہوئے حلقہ این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے قاسم سوری کو ڈی سیٹ کیے جانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کی وجہ سے نئے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔

قاسم سوری کو ڈی سیٹ کیا جانا 2018 کے انتخابات کے بعد پہلا موقع تھا کہ کوئی نشست انتخاب کالعدم ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ کا حکم امتناع
اکتوبر2019کوجسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد قاسم سوری کے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا اورسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخابات سے متعلق شیڈول جاری کرنے سے بھی روک دیا اور اس دن سے قاسم خان سوری عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے قومی اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر براجمان ہیں۔

حالیہ تنازعات
قاسم خان سوری نے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر 3 اپریل کو وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جس کوسپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیکر ووٹنگ کروانے کا حکم دیا۔

9 اپریل کو اسپیکراسد قیصر کے مستعفی ہونے کی وجہ سے 11 اپریل کو قائمقام اسپیکرقاسم سوری نے نئے قائد ایوان کے انتخاب سے قبل عدالتی احکامات پر سخت ریمارکس دیئے اور وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کرکے روایات کی خلاف ورزی کی۔

قاسم سوری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی ارکان کے استعفے سپیکر آفس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جن کی منظوری خود دے کر الیکشن کمیشن کو بھیجوں گا۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں