گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے حالات کو بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا اور اگر صوبے میں ہنگامی صورتحال نافذ ہوتی ہے تو تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ تنِ تنہا ہی کافی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جب کسی صوبے کے اندر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں جہاں ریاست کو مداخلت کی ضرورت محسوس ہو تو صدرِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر آئینی اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ آئین کے مطابق مناسب قدم اٹھائیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مخالفین صرف زبانی جمع خرچ اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، حقیقت میں ان کی کوئی عملی تیاری نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی رہنما یا تو روپوش ہو رہے ہیں یا خود ساختہ گرفتاریاں پیش کر رہے ہیں۔ میں ان کی طرح ہوائی فائرنگ یا بڑی بڑی دھمکیاں نہیں دیتا جب باقاعدہ میدان سجنے کا وقت آئے گا تو ان سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کی کالز اور لانگ مارچ کے دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیسا لانگ مارچ ہے اور کہاں ہو رہا ہے؟ پشاور سمیت پورے صوبے میں نہ تو کوئی کارنر میٹنگ نظر آئی اور نہ ہی کوئی بینر دکھائی دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے لانگ مارچ کے نام پر صرف رہنماؤں کی روپوشی اور گرفتاریوں کا ڈراما دیکھا ہے۔
گورنر کے پی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن ذرا صوابی کراس کر کے تو دکھائیں۔ ان کے پاس نہ کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی سیاسی بصرت، بس ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح وقت گزارا جائے اور صوابی تک پہنچنے سے بچا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








