شہباز حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی نئی قیمت کے اعلان کے باوجود عوام کو ریلیف ملنے کے بجائے مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 294 روپے 7 پیسے فی کلو مقرر کردی ہے، تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں یہی گیس 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 11.8 کلوگرام وزنی گھریلو سلنڈر کی قیمت 173 روپے 86 پیسے بڑھا کر 3 ہزار 470 روپے 9 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔ اکتوبر میں اسی سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 296 روپے 23 پیسے تھی۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر 2026 سے ملک بھر میں ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ جب سرکاری سطح پر ایل پی جی کی قیمت 294 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تو صارفین کو مختلف علاقوں میں 600 روپے فی کلو کے حساب سے گیس کیوں فروخت کی جا رہی ہے؟
سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں قیمت کا یہ فرق صارفین کے لیے ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔ مقررہ قیمت کے مقابلے میں 305 روپے 93 پیسے فی کلو زیادہ وصول کیے جانے کی اطلاعات نے قیمتوں پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شہریوں کا سوال ہے کہ حکومت اور اوگرا کی جانب سے قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فائدہ کیا ہے، اگر عوام کو ان نرخوں پر گیس دستیاب ہی نہیں؟ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف قیمتوں کا اعلان کرنا ہے یا اپنی مقرر کردہ قیمتوں پر صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہے؟
موسم سرما کی آمد کے ساتھ ایل پی جی پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں۔ ایسے صارفین پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں اور اب انہیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑنے کی شکایات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صرف قیمتوں کے اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے مارکیٹ میں مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کریں اور صارفین کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ممکن بنائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








