وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ادویات تیار کرنے والی 50 کمپنیوں نے بعض دواؤں کی قیمتوں میں 2 ہزار فیصد تک اضافہ کیا جس کی تصدیق تھرڈ پارٹی آڈٹ میں بھی ہوئی ہے۔ حکومت نے متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔
ایک بیان میں وزیر صحت نے کہا کہ 2022 کے بعد کمپنیوں کو نان ایسینشل ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم متعدد کمپنیوں نے اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ان کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافے کے حامی ہیں کیونکہ قیمتیں قابلِ عمل نہ ہونے کی صورت میں کینسر سمیت بعض اہم بیماریوں کی دوائیں مارکیٹ سے غائب ہوسکتی ہیں۔ حکومت کو اس معاملے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








