ملک بھر میں گزشتہ چار روز سے جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے 80 فیصد سے زائد مطالبات تسلیم کیے جانے کا امکان ہے۔ ہڑتال کے باعث ملک میں سامان کی ترسیل کا نظام شدید متاثر ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ٹرانسپورٹرز کے مطالبات سے متعلق سمری پر فیصلہ کرسکتے ہیں جبکہ بیشتر مطالبات کی حتمی منظوری وزیراعظم کی رضامندی سے مشروط ہے۔
یہ یقین دہانی ٹرانسپورٹرز کے وفد اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سمیت وزیرِ پیٹرولیم کے درمیان ہونے والے تقریباً چار گھنٹے طویل اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ مذاکرات میں حکومتی نمائندوں نے یقین دلایا کہ ٹرانسپورٹرز کے زیادہ تر مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے گا تاہم بعض معاملات کے لیے وزیراعظم کی منظوری ضروری قرار دی گئی۔
ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں کی آج دوبارہ وفاقی وزرا اور متعلقہ سیکریٹری سے ملاقات بھی متوقع ہے تاکہ باقی معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکے۔
واضح رہے کہ ٹرانسپورٹرز نے 8 اگست سے ملک گیر ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ شامل ہے۔
ہڑتال کے دوران ملک بھر میں مال بردار گاڑیاں کھڑی رہنے کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے جبکہ طویل تعطل نے مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق حکومت کی جانب سے بیشتر مطالبات ماننے کی یقین دہانی تعطل ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے مجوزہ رعایتوں کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








