ساڑھے 8 ہزار روپے میں پورا مہینہ آسانی سے گزارا جا سکتا ہے! نون لیگی رکن اسمبلی کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛فائل)

مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرکے سیاسی میدان میں بھرپور مہم چلانے والی مسلم لیگ (ن) اب اپنے ہی ایک رکن کے بیان کے باعث شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے۔

نون لیگی ایم پی اے کے مطابق لیہ میں متوسط طبقے کے گھرانے 8 ہزار 500 روپے میں پورا مہینہ گزارا کرسکتے ہیں جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

2022 میں عمران خان حکومت کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی تحریک کے دوران مسلم لیگ (ن) نے پٹرول، بجلی اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کو حکومتی ناکامی قرار دیتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم موجودہ دور میں حکمران جماعت سے سامنے آنے والے بعض بیانات مہنگائی کے مسئلے کو دیکھنے کے مختلف انداز کی عکاسی کررہے ہیں۔

حالیہ انٹرویو میں مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سمیعہ عطا شہانی نے کہا کہ ان کے حلقے لیہ میں 8 ہزار 500 روپے کو بڑی رقم تصور کیا جاتا ہے اور متوسط طبقے کے کئی خاندان اسی رقم میں ماہانہ گھریلو اخراجات پورے کرلیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہاں لوگ برانڈز کے معاملے میں زیادہ حساس نہیں ہیں۔

اینکر کی جانب سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ خود بھی 8 ہزار 500 روپے میں پورا مہینہ گھر چلا سکتی ہیں تو سمیعہ شہانی نے واضح کیا کہ وہ خود اس رقم میں گزارا نہیں کرسکتیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو اسی بجٹ میں گھر چلاتے دیکھا ہے۔

لیگی ایم پی اے نے اپنی ماہانہ خریداری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی گروسری تقریباً 20 ہزار روپے میں مکمل ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایک کزن نے گھر پر سولر سسٹم نصب کررکھا ہے جس کے باعث بجلی کے بل میں بچت ہوتی ہے جبکہ سبزیوں کی خریداری پر تقریباً 2 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔

سمیعہ شہانی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور ناقدین نے مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے مہنگائی مخالف بیانیے سے اس موقف کا تقابل شروع کردیا۔ ناقدین کے مطابق اپوزیشن میں مہنگائی کو ناقابل برداشت قرار دینے والی جماعت کے دورِ حکومت میں اسی مسئلے سے متعلق ایسے بیانات عوامی مشکلات سے فاصلے کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں مہنگائی کو عمران خان حکومت کے خلاف سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے نمایاں طور پر استعمال کیا تھا تاہم اب اسے خدشہ ہے کہ موجودہ دور میں یہی معاملہ حکمران جماعت کے لیے سیاسی تنقید کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ تنازع پاکستان کی سیاست میں مہنگائی کے بدلتے سیاسی بیانیے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق مہنگائی کو اکثر ایک مستقل معاشی مسئلے کے بجائے سیاسی نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی شدت اپوزیشن میں زیادہ نمایاں اور اقتدار میں نسبتاً کم دکھائی دینے لگتی ہے۔

دوسری جانب عام شہریوں کے لیے بڑھتے کچن اخراجات، مہنگے ایندھن اور بھاری یوٹیلیٹی بل اب بھی بڑا معاشی چیلنج ہیں۔ ایسے میں سیاسی رہنماؤں کے متضاد بیانات عوام میں پہلے سے موجود بے چینی اور مایوسی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

Related Posts