بلوچستان کے ضلع ژوب میں پیش آنے والے المناک بس حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک زخمی مسافر نے حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرائیور کا ایک مسافر سے شدید جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر بس کو کھائی میں گرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق ژوب کے علاقے داناسر کے قریب کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 39 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد مسافر زخمی ہوئے۔
ابتدائی طور پر ریسکیو ذرائع نے بتایا تھا کہ حادثہ ایک موڑ پر بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا تاہم اس حادثے میں محفوظ رہنے والے زخمی مسافر حسین احمد نے ایک مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ محض اتفاقیہ حادثہ نہیں تھا بلکہ ڈرائیور اور ایک مسافر کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اس کی ممکنہ وجہ بنی۔
حسین احمد کے مطابق بس میں تقریباً 45 افراد سوار تھے اور اس میں مبینہ طور پر غیر قانونی ایرانی ڈیزل بھی لدا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ راستے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر یہ ڈیزل پکڑا گیا، جس سے ڈرائیور کو مالی نقصان پہنچا۔ چیک پوسٹ سے آگے بڑھنے کے بعد ڈرائیور شدید برہمی میں تھا اور اس نے ایک مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “تمہاری وجہ سے ہمارا ڈیزل ضائع ہوا ہے”، جس پر دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور بات جھگڑے تک جا پہنچی۔
عینی شاہد کا کہنا تھا کہ اسی دوران ڈرائیور غصے پر قابو نہ رکھ سکا، جس سے یا تو اس سے بس بے قابو ہو گئی یا پھر اس نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر گاڑی کو کھائی میں اتار دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاید بس کا ڈرائیور اور وہ مسافر، جس سے اس کا جھگڑا ہوا تھا، دونوں اس المناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
ادھر حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








