اسد طور کیخلاف تحقیقات کا حکم، کیا شفاء یوسفزئی اخلاقی جنگ جیت گئیں ؟

Asad Toor vs Shiffa Yousafzai: Who will win in the war?

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے یوٹیوبراسد طور کی پٹیشن خارج کردی ہے اور مقامی ٹی وی کے مارننگ شوکی میزبان شفاء یوسفزئی کی کردار کشی کے معاملے میں ایف آئی اے کواسد طور سے قانون کے مطابق نمٹنے کی ہدایات کردی ہے۔

اسد طور کے الزامات
شفاء یوسفزئی نے اپنے شو میں وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سے متعلق غلط خبر دی تھی جس پر یوٹیوبراسد علی طور نے اینکر پرسن کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا،اور کہا تھا کہ شفا ء یوسفزئی کا ماضی کا ریکارڈ ٹھیک نہیں،انہیں صرف اس لیے ملازمت پر رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ حساس ادارے کے ہیلی کاپٹر اور وزرا کی گاڑیوں میں گھومتی ہیں۔

اسد طور کا کہنا تھا کہ شفا ء یوسفزئی سیاسی جماعت کی ورکر ہے اور آپ نے ان کو اسکرین دی ہوئی ہے صرف اس لیے کہ یہ وزراء کی گاڑیوں میں گھوم لیتی ہیں جو شفا ء یوسفزئی کو پروموٹ کرتے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ اس جاہل کوپروموٹ کرتے صرف اس لیے کہ وہ ان کی گاڑیوں میں بیٹھتی ہے۔ اسد طور نے شفا ء یوسفزئی پر ساکھ برقرار رکھنے کے لیے فوجی افسران کے ساتھ وقت گزارنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے شفا یوسفزئی کے لیے بندر اور مداری کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی۔

شفاء یوسفزئی کا جواب
خاتون اینکر شفا ء یوسفزئی نے ذاتی نوعیت کے الزامات پرہراسگی کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اسد طور نے اپنے ویڈیو پیغامات میں ان کے خلاف قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے جس کا مقصد انہیں ہراساں کرکے ساکھ کو خراب کرنا تھا۔ اپنے گھر والوں اور دوستوں سے مشورے کے بعد اسد طور کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شفاء یوسفزئی کاکہنا تھا کہ اس فیصلے پر کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ پاکستان کے قوانین کسی خاتون کو حق دلانے میں کمزور ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کو پھر ایک آزمائش کے طور پر لینا چاہیے۔ شفاء  یوسفزئی کے مطابق اگر ان کے خلاف کہی گئی باتوں کو پاکستان کا قانون ہراسگی اور ہتک عزت کے زمرے میں نہیں دیکھتا تو پھر کن باتوں کو ہراسگی میں شمار کیا جائے گا؟۔

شہریوں کا ردعمل
ایک خاتون پر اس طرح کے ذاتی حملے پر حقوق نسواں کے حامیوں اور مشہور شخصیات نے اسد علی طور کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شفاء یوسفزائی کے خلاف ویڈیو اخلاقیات سے گری ہوئی اور ذاتی عناد پر مبنی ہے، ویڈیو مقصد، پیشہ ورانہ زبان اور لہجے سے عاری ہے بلکہ اس میں نفرت اور عداوت چھلک رہی ہے۔

کیس کی صورتحال
شفا یوسفزئی نےاسد علی طور کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے میں مقدمہ درج کرایا تھاجبکہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو اسد طور کیخلاف تحقیقات کی ہدایت دی ہے، اس حوالے سے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفاء یوسفزئی نے بتایا کہ کسی کو بھی کسی کی ذات پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ عدالت اسد طور کے معاملے کو احسن انداز سے نمٹائے گی ۔ان کا کہنا ہے کہ میں اب تک کی عدالتی کارروائی سے مطمئن ہوں۔

شفاء یوسفزئی ہو یا اسد طور کسی بھی دل آزاری یا کسی کی ذات پر حملے کا حق کسی کو نہیں ہے اور اسد طور کو اگر شفاء یوسفزئی سے کوئی ذاتی عناد تھا تو بھی ان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کی ذات پر حملہ کریں اور یہ اچھی بات ہے کہ شفاء یوسفزئی بجائے الزام تراشی کے قانون کا راستہ اختیار کیا ہے اور اب اس کیس میں پیشرفت دکھائی دے رہے ہیں۔

شفاء یوسفزئی نے معاملے کو عدالت میں لاکر ایک درست اقدام اٹھایا ہے تاکہ آئندہ کسی کی ذات پرکیچڑ کی کسی کی ہمت نہ ہو اور اس کیس کو معاشرے کیلئے ایک مثال بننا چاہیے تاہم اس کیس کا فیصلہ جو بھی ہو شفاء یوسفزئی کے عزم و ہمت اور اب تک کی پیشرفت کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ شفاء یوسفزئی اخلاقی جنگ جیت گئی ہیں۔