سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے پھیلنے والے مرض ریبیز کے باعث ایک اور شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔ تھرپارکر کا رہائشی 38 سالہ شخص کراچی کے انڈس اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ اس تازہ واقعے کے بعد صوبے بھر میں رواں برس ریبیز سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 38 ہو گئی ہے۔
انڈس اسپتال کے ترجمان کے مطابق متوفی کی شناخت نعمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع تھرپارکر کی تحصیل ڈپلو کے علاقے نوہڑیو کا رہائشی تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ متوفی کو تقریباً ڈھائی ماہ قبل پاگل کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد اسے 25 جولائی سے 8 اگست کے دوران تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال ڈپلو میں ریبیز سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی چار خوراکیں بھی دی گئی تھیں۔
ترجمان کے مطابق مریض کو 7 اکتوبر کو ریبیز کی شدید علامات ظاہر ہونے پر انڈس اسپتال کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں طبی معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کے وقت زخم کو درست طریقے سے نہیں دھویا گیا تھا اور نہ ہی اس کی مناسب صفائی کی گئی تھی۔
اسپتال ذرائع اور اعداد و شمار:
طبی ماہرین اور اسپتال ریکارڈ کے مطابق رواں سال صرف انڈس اسپتال کراچی میں کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 29 ہو چکی ہے جبکہ انڈس اسپتال بدین میں بھی ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ دوسری جانب کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں اب تک ریبیز کے باعث 8 مریض دم توڑ چکے ہیں۔
ترجمان انڈس اسپتال نے مزید انکشاف کیا کہ رواں برس اب تک سگ گزیدگی (کتے کے کاٹنے) کے 15 ہزار سے زائد کیسز علاج کے لیے انڈس اسپتال لائے جا چکے ہیں جو کہ صوبے میں کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








