پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ذرائع میں تنوع لانے کے لیے مقامی آئل ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ترغیب دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا اور عالمی سطح پر رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات کم کرنا ہے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ 17ویں انٹرنیشنل انرجی فورم (IEF) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات زیرِ غور آئے۔
اس موقع پر علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان نے مقامی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل کی درآمد کے ممکنہ مواقع تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیل کی فراہمی کے متبادل ذرائع بھی دستیاب رکھے تاکہ اہم بحری تجارتی راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کسی تعطل کی صورت میں توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
لیبیا کے وزیر تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق نے پاکستان کو اپنے ملک کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی قومی آئل کمپنی کو پاکستانی کمپنیوں کے لیے خام تیل کی فراہمی بڑھانے کے امکانات پر غور کرنے کی ترغیب دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لیبیا اپنی آئل ریفائنریز کو جدید بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








