عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ روس سے ڈیزل کی اضافی فراہمی کی توقعات ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.54 ڈالر یعنی 1.47 فیصد کمی کے بعد 103.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.54 ڈالر یعنی 1.68 فیصد سستا ہوکر 90.31 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ آئی سی ای گیس آئل فیوچرز کے نرخ 3 فیصد گر کر 1,436 ڈالر فی بیرل رہ گئے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق دنیا بھر میں ڈیزل کی یومیہ کھپت تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ بیرل ہے جس کے باعث اضافی رسد عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
روس سے اضافی ڈیزل کی فراہمی کی توقعات کے باوجود مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرانداز رہا جس کے باعث برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہا۔
دوسری جانب مالیاتی ادارے گولڈمین ساکس نے دسمبر کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 85 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔ ادارے کے تجزیہ کاروں نے ڈین اسٹرائیون کی سربراہی میں جاری کردہ نوٹ میں کہا کہ بنیادی توقع یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں بتدریج بہتری بالآخر قیمتوں میں کمی کا سبب بنے گی تاہم تنازع میں دوبارہ شدت آنے سے قیمتوں میں اضافے کا نمایاں خطرہ برقرار ہے۔
گولڈمین ساکس نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی اوسط قیمت دسمبر 2026 میں 81 ڈالر اور 2027 میں 73 ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا اور یورپ کے درمیان تیل کی ترسیل کے بلند اخراجات کے باعث WTI کی قیمت برینٹ کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








