قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں لاپرواہی کا ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شدید درد کے علاج میں استعمال ہونے والے مورفین (Morphine) کے تین ہزار سے زائد انجکشن استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپائر ہو گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق 24 دسمبر 2025 کو اسپتال کے فارماسسٹ طلحہ محبوب خان نے اسسٹنٹ منیجر فارمیسی کو خط لکھا تھا جس میں انکشاف کیا گیا کہ اسپتال کے نارکوٹکس کیبنٹ میں موجود 3,191 مورفین انجکشنز کی میعاد 30 دسمبر 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 کے دوران کل 6 ہزار میں سے صرف 2,809 انجکشن استعمال ہوئے جبکہ باقی 53 فیصد اسٹاک ایکسپائر ہو گیا۔ واضح رہے کہ مورفین کینسر اور شدید تکلیف میں مبتلا مریضوں کے لیے انتہائی اہم دوا مانی جاتی ہے۔

معاملہ سامنے آنے پر این آئی سی وی ڈی کے ترجمان عبدالنصیر نے وضاحت دی ہے کہ مورفین ایک کنٹرولڈ اور درآمد شدہ نشہ آور دوا ہے جسے ضوابط کے تحت ہی واپس کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈرگ انسپکٹر کے معائنے اور قانونی کارروائی کے بعد سپلائر کمپنی بغیر کسی اضافی قیمت کے نئے انجکشن فراہم کرے گی اس لیے قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
انتظامیہ اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہی کہ سخت نگرانی اور انوینٹری سسٹم کے باوجود ہزاروں قیمتی انجکشنز کو بروقت استعمال کیوں نہیں کیا گیا اور نیا اسٹاک کب تک بحال ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








