پاکستان میں غیر قانونی طور پر اسمگل کیے جانے والے افغان سگریٹس کے ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔اس غیر قانونی دھندے سے نہ صرف ملکی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس نقصان ہو رہا ہے بلکہ یہ سرگرمی قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
اے سی ٹی الائنس کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ اسمگل ہونے والے معروف سگریٹ برانڈز میلانو اور مونڈ بنیادی طور پر گل بہار ٹوبیکو کمپنی کے زیرِ انتظام تیار ہوتے ہیں جبکہ اس ادارے کی باگ ڈور افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر خاندان کے ہاتھوں میں ہے۔
بیان کے مطابق اس گروپ کا جال پاکستان، افغانستان، متحدہ عرب امارات، یورپ، برطانیہ اور روس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس گروہ کے مفادات محض سگریٹ کی تجارت تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے سرمایہ کاری، ہوٹلنگ، رئیل اسٹیٹ، سیمنٹ کی پیداوار، توانائی، ہائیڈرو پاور اور دیگر عظیم الشان ترقیاتی منصوبوں میں بھی اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میلانو اور مونڈ سگریٹس کو مبینہ طور پر افغانستان کے راستے بلوچستان کے ناہموار اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے پاکستان میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہاں سے ایک طے شدہ ترسیلی ڈھانچے کے ذریعے انہیں ملک کے تمام بڑے شہروں اور مارکیٹوں تک سپلائی کیا جاتا ہے۔ اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور کارروائی سے بچنے کے لیے بسا اوقات ان سگریٹس کو انرجی ڈرنکس اور دیگر قانون پسند اشیائے خوردونوش کی آڑ میں چھپا کر منتقل کیا جاتا ہے۔
اے سی ٹی الائنس کا کہنا ہے کہ اس سیاہ کاروبار کو چلانے میں کئی منظم مافیاز شامل ہیں اور اس فروخت سے حاصل ہونے والا خطیر پیسہ ہر ماہ منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی طریقوں سے افغانستان بھیجا جا رہا ہے جس کے باعث حکومتِ پاکستان کو ہر ماہ اربوں روپے کا ریونیو گھاٹا برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس گروپ کی جانب سے کابل میں 8 ارب ڈالر کا 11 ہزار ایکڑ پر محیط رہائشی و تجارتی منصوبہ، ہرات میں 142 ملین ڈالر کا سیمنٹ پلانٹ اور صوبہ پروان میں 500 ملین ڈالر کا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس گروپ پر افغان فوج سے وابستہ مختلف منصوبوں کو مالی اور تکنیکی مدد کی فراہمی کا بھی الزام ہے۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان کے مطابق اس گھناؤنے کھیل کا سب سے خوفناک رخ یہ ہے کہ اتنا وسیع اور منظم نیٹ ورک جاسوسی، دہشت گردی، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی فنڈنگ اور دیگر ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے انتہائی سہولت سے استعمال ہو سکتا ہے لہٰذا اسے محض ٹیکس چوری کا عام معاملہ سمجھنے کے بجائے ملک کی سالمیت کا مسئلہ ماننا ہو گا۔
اے سی ٹی الائنس پاکستان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پاکستان کسٹمز، وفاقی و صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس نیٹ ورک کی بلاتاخیر اور شفاف تحقیقات کی جائیں، منی لانڈرنگ کے تمام راستے مسدود کیے جائیں اور اس ترسیلی زنجیر میں شامل تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








