لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور 3 بچے زہر خورانی کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے، پولیس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد عدم ثبوت کی بنیاد پر والد ناصر ڈوگر کو چھوڑ دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کا ماننا ہے کہ ناصر ڈوگر اپنے اہل خانہ سمیت یکم جولائی کو امریکا سے پاکستان پہنچے تھے، خاندان کے پانچوں افراد امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ ویلنشیا ٹاؤن میں ناصر ڈوگر کے بھائی نے کرائے پر گھر لے کر دیا۔ زہرخورانی کا واقعہ 17 جولائی ک پیش آیا تھا۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق ناصر ڈوگر 17 جولائی کی شام 6 بج کر 10 منٹ پر گھریلو سامان کی خریداری کرنے گئے، جس کے 1 گھنٹہ 47 منٹ بعد 7 بج کر 57 منٹ پر واپس گھر پہنچے اور دونوں میاں بیوی نے مل کر گھریلو سامان کو اندر منتقل کیا۔ اس دوران علینا نے شوہر کو آئس کریم کھانے کا کہا۔
تاہم ناصر ڈوگر نے پانی کی طلب کے باعث آئس کریم کھانے سے معذرت کرلی اور پوچھا کہ بچے کہاں ہیں۔ علینا نے کہا کہ بچے فلم دیکھنے کلئے گئے ہوئے ہیں۔ 8 بج کر 4منٹ پر ہمسائے ناصر ڈوگر کو بتاتے ہیں کہ بچے پیچھے گرے ہوئے ہیں۔ ناصر کہتا ہے کہ بچے تو فلم دیکھنے گئے ہیں اور اطلاع دینے والوں کو واپس بھیج دیا۔
بعد ازاں ناصر ڈؤگر نے 8 بج کر 5 منٹ پر اپنے بھائی ڈی ایس پی شیر علی کو فون کیا۔ 8 بج کر 10 منٹ پر ہمسائے اور گھر کے سامنے موجود لانڈری والے نے دوبارہ ناصر کو بلا لیا۔ تینوں افراد گھر کے واشنگ ایریا میں گئے تو چادر میں لپٹے ہوئے بچے مردہ حالت میں وہاں موجود تھے۔ اس موقعے پر ناصر کی بیوی علینا قتل کا الزام شوہر پر عائد کرتے ہوئے پورچ میں گر گئی۔
ناصر ڈوگر نے 8 بج کر 15 منٹ پر بیوی کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ 8 بج کر 20 منٹ پر چوکی انچارج بلوکی کو اطلاع دی گئی۔ 8 بج کر 25 منٹ پر وہ جائے وقوعہ پر ہنچے اور 8 بج کر28 منٹ پر علینا کی موت کی تصدیق ہوگئی۔ تفتیشی ٹیم نے کچرا دین سے کیپسول کی باقیات برآمد کرلیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگ ایریا اور کمرے کے دروازے کو گدے کی مدد سے چھپا دیا گیا ھتا۔ ناصر ڈوگر کے بیانات کی تصدیق کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد لی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ناصر ڈوگر کو عدم ثبوت کے باعث چھوڑا گیا ہے۔ بچوں اور ماں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد واقعے کی تفتیش آگے بڑھائی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








