ضمیر کا سودا یا سیاسی ڈیل؟ 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کیلئے مولانا فضل الرحمٰن نے 5 ارب روپے لیے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

حالیہ سیاسی گرما گرمی اور 26 ویں آئینی ترمیم کے پس منظر میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ گوجرانوالہ بار کونسل کی ایگزیکٹو ممبر خاتون وکیل صاحبہ رانا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے انتہائی سنگین اور سنسنی خیز دعوے کر دیئے ہیں۔

آئینی ترمیم کی حمایت اور اربوں روپے کی مبینہ ڈیل

گوجرانوالہ بار کونسل کی ایگزیکٹو ممبر صاحبہ رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ مستند ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن ابتدا میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے بالکل راضی نہیں تھے تاہم بعد میں ایک بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ معاملات طے پاگئے۔

اس مبینہ ڈیل کی تفصیلات بتاتے ہوئے خاتون وکیل نے انکشاف کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے مذکورہ بزنس ٹائیکون سے 5 ارب روپے وصول کیے۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پرتعیش رہائش گاہ حاصل کی گئی اور لاہور کے مضافاتی علاقے میں ایک بہت بڑے مدرسے کے لیے زمین لی گئی جہاں وہ اپنے بیٹے کو سیٹل کر رہے ہیں۔ صاحبہ رانا کا مزید کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی متعدد قیمتی پراپرٹیز اس بزنس ٹائیکون نے مولانا فضل الرحمٰن کو فراہم کیں۔

سیاسی وفاداری اور مفادات کا کھیل

صاحبہ رانا نے مولانا فضل الرحمٰن کے ماضی کے سیاسی کردار پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جو بھی انہیں ذاتی فائدہ پہنچائے وہ اسی کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی روش دیگر پریشر گروپس اور سیاستدانوں کی بھی ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن اس معاملے میں سب سے منفرد ہیں۔

خاتون وکیل کا کہنا ہے کہ مولانا نے آج تک سب سے فائدے تو سمیٹے ہیں لیکن کبھی کسی سے وفاداری نہیں نبھائی۔ اگر انہیں ایک فائدے کے مقابلے میں کوئی دوسرا فریق دگنا فائدہ پیش کر دے تو وہ فوراً اپنا پینترا بدل کر دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

سال 2002 کی ایم ایم اے حکومت اور امریکی سفیر کا مراسلہ

خاتون وکیل نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب 2002 میں متحدہ مجلس عمل (MMA) تشکیل پائی تو مولانا فضل الرحمٰن کی پوری کوشش تھی کہ وہ ملک کے وزیرِ اعظم بن جائیں۔

انہوں نے امریکی سفارتی مراسلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے امریکی سفیر نے بھی واشنگٹن کو لکھ بھیجا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ووٹ قابلِ فروخت ہیں اور اگر امریکہ ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کرے تو مولانا بھی امریکی مفادات کے لیے ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔

چند سرکاری گاڑیوں کے لیے سیاسی اتحاد کا خاتمہ

صاحبہ رانا نے متحدہ مجلس عمل کے خاتمے کی اندرونی کہانی پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مذہبی و سیاسی اتحاد خیبر پختونخوا کے وزراء کے لیے اضافی گاڑیوں کی خریداری پر پیدا ہونے والے تنازع کے باعث ٹوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتیں ان اضافی گاڑیوں کی خریداری کے خلاف تھیں لیکن مولانا بضد تھے کیونکہ وہ گاڑیاں اپنے بھائیوں، بیٹوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو نوازنے کے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

خاتون وکیل نے الزام لگایا کہ مولانا اس حد تک خود غرض اور مفاد پرست واقع ہوئے ہیں کہ محض دس بیس سرکاری گاڑیوں کی خاطر انہوں نے پورے سیاسی اتحاد کو یکسر مسمار کر دیا کیونکہ ان کی سیاست کا محور صرف اور صرف اپنا ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

Related Posts