سندھ میں 79 ادویات اور سرنج کے نمونے جعلی اور غیرمعیاری نکلے

تازہ ترین

تازہ ترین

جعلی ادویات
(فوٹو: اے آر وائی)

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے مختلف ایلوپیتھک اور ہربل ادویات کے ساتھ سرنجز کے 79 نمونوں کو غیر معیاری یا جعلی قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان مصنوعات کے معیار اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جانب سے جنوری سے 13 جولائی تک حاصل کیے گئے نمونوں کی ٹیسٹنگ رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جموعی طور پر 2461 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں سے 79 نمونے مقررہ اور منظور شدہ معیار پر پورا نہیں اترے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز غیر معیاری یا جعلی ثابت ہوئیں۔ یہ سرنجز صرف ایک مرتبہ استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہیں، تاہم بعض سپلائی کی گئی سرنجز مکمل طور پر آٹو ڈس ایبل نہیں تھیں، جس کے باعث ان کے دوبارہ استعمال ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

لیبارٹری کے مطابق ایک ہی سرنج مختلف مریضوں پر استعمال کرنے سے انفیکشن پھیلنے اور علاج متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ معیاری آٹو ڈس ایبل سرنجز ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی دیگر بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سندھ میں 20 ہربل مصنوعات میں ایلوپیتھک اجزا کی موجودگی سامنے آئی، جبکہ 9 ادویات ایسی بھی پائی گئیں جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کی صحت متأثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Related Posts