سندھ ہائی کورٹ نے منشیات سے متعلق مقدمات میں قانونی ابہام ختم کرنے کیلئے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایف آئی آرز میں غیر رسمی اور غیر واضح الفاظ استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ عدالت نے ویڈ جیسی عام اصطلاحات کے بجائے منشیات کی درست قانونی شناخت درج کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ بھنگ سے متعلق کسی بھی مواد کے لیے ایف آئی آر میں واضح اور تسلیم شدہ اصطلاحات جیسے کینابس، چرس یا گانجہ استعمال کی جائیں جبکہ ایسے الفاظ سے اجتناب کیا جائے جو مختلف تشریحات کا باعث بن سکتے ہیں یا قانونی کارروائی میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ ہدایات سندھ ہائی کورٹ میں 560 گرام مبینہ ویڈ برآمدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کی گئیں۔ جسٹس امجد علی سہتو نے چیف سیکریٹری سندھ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ سرکاری ریکارڈ میں صرف قانونی طور پر تسلیم شدہ الفاظ ہی شامل کیے جائیں کیونکہ غیر واضح زبان عدالتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانونی دستاویزات میں غیر رسمی یا غیر واضح اصطلاحات کے استعمال سے تحقیقات کے مرحلے اور بعد ازاں عدالتی کارروائی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایف آئی آر میں برآمد ہونے والے مواد کی مکمل اور درست تفصیل درج کی جائے تاکہ ٹرائل اور فیصلے کے مراحل میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
اسی کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے ملزم افتخار حسین کی بعد از گرفتاری ضمانت بھی منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف نیپئر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ دو ماہ سے پولیس کی حراست میں تھا تاہم مقدمے کی کارروائی میں کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ جرم میں ممکنہ سزا چھ ماہ سے تین سال تک قید ہے اس لیے یہ مقدمہ ان جرائم میں شامل نہیں جو ضمانت کے حوالے سے ممنوعہ دائرے میں آتے ہیں۔ عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ضمانت قانون کا بنیادی اصول ہے جس کا اطلاق حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








