کراچی کی 11سالہ بچی قتل، لاش کے ٹکڑے ٹکڑے۔ سپریم کورٹ کا سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

سپریم کورٹ
(فوٹو: یوسف امانت)

کراچی کے علاقے لانڈھی میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد نہ صرف قتل کردیا گیا بلکہ ملزم نے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے تھے۔ سپریم کورٹ نے بہیمانہ قتل اور درندگی کے اس کیس میں مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ نے 11 سالہ بچی کو قتل کرنے والے ملزم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 58رکنی شریعت ایپلیٹ بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

مجرم گوہر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے مؤکل کا نہ تو ڈی این اے ٹیسٹ ہوا ہے اور نہ ہی فنگر پرنٹس لیے گئے، اس لیے سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ جس پر جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دئیے کہ 11 سالہ بچی کا سر کہیں سے ملا اور دھڑ کہیں سے جو جرم کی سنگینی کا اظہار ہے۔

استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم مقتولہ کے والد کا دوست تھا۔ جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دئیے کہ شاید ملزم کو یقین ہوگیا تھا کہ کوئی اس پر شک نہیں کرے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے بتایا کہ ایک قتل کے خلاف نکالے گئے جلوس میں سب سے زیادہ شور مچانے والا شخص ہی بعد میں اصل ملزم نکلا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ جب اس شخص کا جھوٹ پکڑنے والی مشین سے جائزہ لیا گیا تو وہ بے نقاب ہوا۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والا ہے۔ حق دار کو اس کا حق مل جاتا ہے۔ قتل ایک گولی مار کر بھی ہوسکتا ہے اور لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بھی لیکن عدالت کا کام جذباتی ہونا نہیں بلکہ قانون کے تحت انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ اگر اس کیس میں سزائے موت نہ ہو تو پھر کس مقدمے میں ہوگی؟ بعد ازاں عدالت نے مجرم گوہر کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

ماضی میں یہ واقعہ کراچی کے علاقے لانڈھی میں پیش آیا تھا جہاں مجرم گوہر نے 11 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد نہ صرف قتل کیا بلکہ لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے تھے۔ مقدمے کی ایف آئی آر فروری 2005 میں درج ہوئی جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی اور بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Related Posts