مکمل سورج گرہن کب؟ حاملہ خواتین کو گرہن کے دوران کیا احتیاط کرنا ہوگی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سورج گرہن
(فوٹو: آن لائن)

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ رواں برس ٍ12 اگست کو 2 سال کے وقفے کے بعد مکمل سورج گرہن ہوگا اور یہ مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں دیکھا جاسکے گا جس میں غروب آفتاب کا وقت بھی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق ناسا کا کہنا ہے کہ سورج گرہن صرف چند ہی ممالک کے شہریوں کو نظر آسکے گا جن میں آئس لینڈ، گرین لینڈ، اسپین کے شمالی علاقے اور پرتگال کا ایک علاقہ شامل ہیں جبکہ اسپین میں سورج گرہن عین سورج غروب ہونے کے وقت دیکھا جاسکے گا۔

ماہرین فلکیات کا ماننا ہے کہ غروب آفتاب کے وقت اسپین میں نظر آنے والا مکمل سورج گرہن ایک مسحور کن نظارہ ہوگا۔ یورپ کے بیشتر ممالک کے علاوہ شمالی افریقہ کے متعدد خطوں کے رہنے والے شہری جزوی سورج گرہن کا مشاہدہ کرسکیں گے۔

دلچسپ طور پر روس میں طلوع آفتاب اور غروب سمیت دونوں اوقات میں جزوی سورج گرہن ہوگا۔ پاکستان کے وقت کے مطابق 12 اگست کی رات کو جزوی سورج گرہن 10 بج کر 34 منٹ پر شروع  ہوگا جو رات 12 بج کر 12 منٹ پر عروج کو پہنچے گا اور رات 2 بج کر 58 منٹ پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔

حاملہ خواتین کیلئے احتیاط؟

مختلف معاشروں میں سورج اور چاند گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو سخت احتیاط کی ہدایت کی جاتی ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ سورج گرہن کے دوران نقصان دہ شمسی تابکاری میں اضافہ نہیں ہوتا اور حاملہ خواتین اس سے متاثر نہیں ہوتیں۔

بعض لوگ حاملہ خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جلد کے نقصان سے بچنے کیلئے سورج گرہن سے دور رہیں تاہم عام دنوں میں بھی سورج کی تیز شعاعیں جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جس کا سورج گرہن سے کوئی تعلق نہیں۔

یہاں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سورج گرہن سے زچہ و بچہ کو پہنچنے والے نقصانات کے خدشات سائنسی شواہد کی بجائے ثقافتی عقائد سے منسلک ہیں جو توہمات پر مبنی ہیں۔ سورج گرہن کے دوران سورج کو براہِ راست دیکھنا اور زیادہ دیر گھر سے باہر رہنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

اسلام کیا کہتا ہے؟

ایک ویب سائٹ (دی فتویٰ) پر موجود دینی مضمون کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب بھی تم یہ دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، تکبیر کہو، نماز پڑھو اور صدقہ دو۔

اسی مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے سورج گرہن اور چاند گرہن کے اوقات میں نوافل، دعاؤں اور صدقات کے واقعات موجود ہیں تاہم حاملہ عورت کے چاند گرہن کے وقت کچھ کاتنے یا کٹنے والے کام کی ممانعت یا کوئی خصوصی احکام بیان فرمانے کے شواہد موجود نہیں۔

Related Posts