ابوالاعلیٰ مولانا مودودی کی پوتی صوفیہ فاروق اسرائیل کی حامی! جانیں چونکا دینے والے انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی ریاست جارجیا کی مقامی ریپبلکن سیاست میں سرگرم امیدوار صوفیہ فاروق مودودی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ ایک وائرل تصویر میں انہیں لیپل پر امریکی اور اسرائیلی پرچم والے مشترکہ پن کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے جس کے بعد ان کی سیاسی وابستگی، انتخابی مہم اور خاندانی پس منظر پر مختلف حلقوں میں گفتگو شروع ہوگئی ہے۔

وائرل تصویر میں صوفیہ فاروق سرخ سویٹر اور کالے بلیزر میں نظر آ رہی ہیں جبکہ ان کے کوٹ کے لیپل پر امریکا اور اسرائیل کے جھنڈوں پر مشتمل پن نمایاں ہے۔ امریکا میں اس طرح کے پن کو عام طور پر اسرائیل کے ساتھ حمایت یا یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

صوفیہ فاروق مودودی 2025 میں جارجیا کے کوب کاؤنٹی ریپبلکن پارٹی کی چیئرمین شپ کے انتخاب میں امیدوار تھیں تاہم وہ مریم کلیرس ہیتھ وے سے شکست کھا گئیں بعد ازاں انہوں نے انتخابی نتائج کے خلاف اپیل بھی دائر کی تھی۔

Image

مقامی امریکی میڈیا کے مطابق صوفیہ فاروق سمیرنا کی رہائشی ہیں اور تقریباً 20 سال سے زائد عرصے سے کوب کاؤنٹی میں مقیم ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہیں۔بعض حلقوں کی جانب سے ان پر اسرائیل کی حمایت نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے جنہیں انہوں نے مسترد کرتے ہوئے غلط قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے صوفیہ فاروق مودودی کو جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی کی پوتی اور فاروق مودودی کی بیٹی قرار دیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان کے والدین 1960 کی دہائی میں امریکا منتقل ہوئے تھے جبکہ صوفیہ فاروق خود کو مسلمان قرار دیتی ہیں۔

Image

صوفیہ فاروق کی سیاسی سرگرمیاں اس وقت بھی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ وہ جارجیا کے کوب کاؤنٹی میں ریپبلکن پارٹی کی سربراہی کے امیدواروں میں شامل رہ چکی ہیں۔ انہیں بعض گروپس کی جانب سے MAGA امیدوار کے طور پر حمایت بھی حاصل رہی ہے تاہم ان کی امیدوار ی اور خاندانی پس منظر سے متعلق مختلف سوالات بھی زیر بحث آتے رہے ہیں۔

کچھ مبصرین نے ان کی سیاسی امیدوار ی کے دوران ان کی عوامی موجودگی پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اہم مقامی سیاسی عہدے کے امیدوار کے طور پر صوفیہ فاروق کا آن لائن ریکارڈ محدود دکھائی دیتا ہے اور ان کے بعض پیشہ ورانہ دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے معلومات کم دستیاب ہیں۔

رپورٹس میں ان کے خاندانی تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انکے دادا ابوالاعلیٰ مودودی جماعت اسلامی کے بانی تھے جن کے نظریات اور سیاسی فکر پر کئی دہائیوں سے علمی اور سیاسی بحث جاری ہے۔

جماعت اسلامی اور اس سے وابستہ حلقوں کے بارے میں مختلف ممالک میں مختلف نوعیت کے الزامات اور پالیسی فیصلے سامنے آتے رہے ہیں جبکہ جماعت خود اپنے کردار کو سیاسی اور سماجی جدوجہد کے طور پر پیش کرتی ہے۔

صوفیہ فاروق کے والد ڈاکٹر سید احمد فاروق اور دیگر رشتہ داروں کے حوالے سے بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ان کے خاندانی روابط کو اسلامی تنظیموں اور فکری حلقوں سے جوڑا گیا ہے تاہم ان تعلقات کی نوعیت اور اثرات کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔

ابوالاعلیٰ مودودی کے ریاست، مذہب اور حکومتی نظام سے متعلق نظریات بھی طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ ان کے حامی ان کی فکر کو ایک سیاسی و سماجی نظریہ قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین ان کے بعض خیالات پر تنقید کرتے ہیں۔

رپورٹس میں یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ صوفیہ فاروق کی سیاسی مہم کو بعض کاروباری اور سماجی شخصیات یا اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی حمایت حاصل رہی تاہم ان روابط اور اثرات سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

صوفیہ فاروق مودودی کا معاملہ صرف ایک سیاسی امیدوار تک محدود نہیں بلکہ یہ امریکی مقامی سیاست میں امیدواروں کے نظریاتی پس منظر، خاندانی روابط اور حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ جہاں ناقدین ان پہلوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں، وہیں حامی سیاسی عمل میں شمولیت اور انتخاب لڑنے کے حق پر زور دیتے ہیں۔

Related Posts