ٹرمپ کا بڑا اعلان: جنگ بندی یا چکمہ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے پاور پلانٹس پر اعلان شدہ حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کے اعلان کو خطے میں جاری کشیدگی کے سفارتی حل کی جانب ایک پہلا قدم تصور کیا جاسکتا ہے، جس کا عالمی منڈیوں میں بھی فوری اور واضح ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کے ساتھ “مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز” مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے اس فیصلے کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے “مکمل اور جامع حل” کی جانب ایک پیش رفت قرار دیا گیا۔ بظاہر یہ اقدام کشیدگی میں وقتی کمی اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اگر کامیاب ہو جائے تو پورے خطے کے لیے ایک بہتر اور مستحکم مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم اسرائیل ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ اسرائیل کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ 7ممالک کو کمزور یا ختم کرنے کے بعد اب ایران ہی وہ ملک رہ گیا تھا جو اسرائیل کی نظروں میں کھٹک رہا تھا، لہٰذا اسرائیل اپنی حتی الوسع کوشش کرے گا کہ امریکا میں اسرائیلی لابی کے ذریعے یا خود اس خطے میں ایسا کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے کہ یہ سلسلہ دوبارہ اسی آب و تاب کے ساتھ شروع ہوجائے۔

ایران نے واضح طور پر عندیہ دیا تھا کہ اگر اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیجی ممالک کے توانائی اور پانی کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے  بلکہ ساتھ ہی بارودی سرنگوں  کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بھی مکمل طور پر بند کرسکتا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں عدم تحفظ کے خدشات میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت میں مزید بھونچال برپا ہوجائے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے 95فیصد ایرانی طاقت ختم کرنے کے دعوے کے باوجود  اب بھی بھرپور دفاعی اور جارحانہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل  اسرائیلی فوج نے تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں مرکزی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں شدید دھماکے ہوئے۔ کاراج شہر کے فضائی حملے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں آگ اور دھوئیں کے ستون بلند ہوتے دکھائی دیے۔ ایران کے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس میں 100 کلو واٹ ایم ٹرانسمیٹر پر حملے کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ شمال مغربی شہر ارومیہ میں فضائی حملے کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے کے نیچے دبے ہوئے  افراد کی تلاش میں مصروف ہوگئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق قم صوبے میں ایک ٹربائن انجن کی پیداوار کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جو ایرانی ڈرون اور ہوائی جہاز کے اجزاء کی تیاری میں استعمال ہوتی تھی۔

خلیج میں  بھی صورتِ حال  کافی کشیدہ رہی کیونکہ  سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل داغے گئے جن میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ دوسرا غیر آباد علاقے میں گرا۔ ایرانی فوج نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر حملہ کیا۔ متحدہ عرب امارات پر  بھی ایرانی بیلسٹک میزائل  داغا گیا ۔ قطر میں 22 مارچ کو ایک ہیلی کاپٹر  گر گیا، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ تکنیکی خرابی تھی، جس میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار قطری اور تین ترک فوجی شامل تھے، جیسا کہ کویت کی فضا میں جب ایف 35 طیارے گرے تو وہاں بھی یہی تکنیکی خرابی کا دعویٰ کیا گیا جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ یہ ان کی کارروائی کے نتیجے میں ہوا ہے۔ بحرین میں ایرانی حملوں میں امریکی ففتھ بحری بیڑے کے  ہیڈ کوارٹر کو  نشانہ بنایا گیا، جبکہ  کویت نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمی سول ایوی ایشن تنظیم کو احتجاجی خط  بھیج دیا۔

امریکی ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے امریکی صدر نے شرفِ قبولیت بخش دیا، جبکہ سینیٹر ٹم کین نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ہزیمت قبول کرنے سے قاصر ہیں اور اس وجہ سے امریکی جوانوں کو جنگ کیلئے  بھیج رہے ہیں۔  اس سے قبل ایران کے حملے میں دیومونا اور عراد  کے قصبوں میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے۔ لبنان میں 2 مارچ کے بعد اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 1,029 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 100 سے زائد بچے شامل ہیں۔ عراق میں کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو گئے، زیادہ تر ایرانی حمایت یافتہ عوامی رضاکار فورسز کے رکن تھے، جبکہ ایک غیر ملکی عملے کا رکن آئل ٹینکروں پر حملے میں ہلاک ہوا۔

اسی دوران پاکستان نے خطے میں متوازن اور ذمہ دارانہ موقف اپنایا ہے۔ پاکستان کو  اکثر کچھ ممالک کی جانب سے غیر ضروری طور پر مختلف تنازعات میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم وزارت خارجہ نے امریکی انٹیلیجنس کے بیانات پر مؤثر اور بروقت ردعمل دیا اور واضح کیا کہ پاکستان کی تمام دفاعی تحقیق اور میزائل ڈویلپمنٹ بنیادی طور پر بھارت کے حوالے سے ہے، نہ کہ کسی اور ملک کے خلاف۔ پاکستانی حکام کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے فعال سفارتی اقدامات کرنےچاہئیں  تاکہ عالمی سطح پر یہ واضح ہو کہ پاکستان کسی جارحیت یا تنازعے  کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

اگرچہ جنگ کے مالی اخراجات 200 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں اور خطہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کی لپیٹ میں ہے، تاہم ٹرمپ کا حالیہ فیصلہ ایک اہم سفارتی موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ عارضی وقفہ بامعنی مذاکرات میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف جنگ کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت اور انسانی جانوں کو مزید نقصان سے بھی بچا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے امید کی ایک نئی کرن جنم لیتی نظر آرہی ہے کہ شاید یہ تنازع محض عسکری نہیں بلکہ سفارتی ذرائع سے حل کی جانب بڑھ سکے۔

Related Posts