طالبان کی نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کی روک تھام کی وزارت (امر بالمعروف، نہی عن المنکر) نے بتایا کہ افغان دارالحکومت میں سینکڑوں لاؤڈ اسپیکر نصب کیے گئے ہیں تاکہ نمازیوں کو نماز میں شرکت کی ترغیب مل سکے۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ سینکڑوں خالی دکانوں اور دیگر غیر استعمال شدہ عمارتوں کو حال ہی میں مساجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ہر ایک کو اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کا موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں:
طالبان نے شرعی سزاؤں کیخلاف اقوام متحدہ بیان مسترد کردیا، تبصرہ توہین آمیز قرار
ایک ٹویٹ میں طالبان کی وزارت نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دورمیں کچھ لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹا دیا گیا تھا اور لوگ اذان نہیں سن سکتے تھے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ کابل کے مختلف حصوں میں چار سو لاؤڈ اسپیکر نصب کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ایک ہی وقت میں اذان سن سکیں۔
گذشتہ سال اگست میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان نے بتدریج سخت اصول و ضوابط متعارف کرائے ہیں جو، ان کے بقول، اسلامی شریعت کے مطابق ہیں۔
خواتین کو عوامی زندگی سے بڑی حد تک دور کر دیا گیا ہے، زیادہ تر خواتین سرکاری اور دوسری ملازمتوں سے محروم ہو چکی ہیں یا گھر میں رہنے کے لیےمعمولی رقم وصول کر چکی ہیں۔
گھر سے باہر نکلتے وقت انہیں اپنے آپ کو برقع یا حجاب سے ڈھانپنے کا حکم ہے ۔انہیں کسی مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے اور پارکوں، ورزش گاہوں یا عوامی حماموں میں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔
اگست 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے ملک کے بیشتر حصوں میں نوعمر لڑکیوں کے اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
مقامی میڈیا نے بدھ کو یہ بھی اطلاع دی کہ نیکی کی ترغیب اور برائی سے بچاؤ کی وزارت نے دارالحکومت کے بعض حصوں میں دکانوں کو ہفتے کی سب سے اہم نماز جمعہ کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اذان پورے افغانستان میں ایک مانوس آواز ہے، خاص طور پر شہروں میں جہاں سینکڑوں مساجد سے دن میں پانچ وقت اذان گونجتی رہتی ہے۔