نوجوانوں کو اپنی بقا کی خاطر آگے آنا ہوگا

علی عمران  


یہ مصنف یونیفی ایجوکیشن کے بانی اور برانڈ ایمبیسیڈر ہیں  

پاکستان میں ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اور مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں نوجوانوں کو اپنی ملازمت کے حصول بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پیشہ وارانہ ماحول میں نوجوان جو بننے کی خواہش رکھتے ہیں اس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس مسئلے سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔

اس سارے معاملے میں کیا ہم معیشت کو مورد الزام ٹھہراسکتے ہیں؟ یا ہم بر سر اقتدار حکومت کو مورودِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں؟ یا ہم نام نہاد تعلیمی نظام پر الزام لگاتے ہیں جس کوکبھی منصفانہ کبھی غیر منصفانہ سمجھا جاتا ہے؟ یا ہم اس نظام پر الزام لگا سکتے ہیں جس میں میرٹ کو نظر انداز کرکے سیاسی بھرتیوں کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن یہ معمول کی بات ہے، ہمیں اس صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت ہے، واقعتا سوال تو اُٹھتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

وقت شاید سب سے قیمتی انعام ہے جو قدرت نے نوجوانوں کو دیا ہے، ہم یا تو ان نام نہاد چیلنجوں کے بارے میں بات کرنے میں وقت گزار دیتے ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں، جن پر ہم عام طور پر براہ راست قابو نہیں رکھ سکتے، ہمیں چاہئے کہ ہم ان چیزوں پر غورو فکر کریں جس پرہم کچھ کرسکتے ہوں اور آگے بڑھ سکتے ہوں۔

یہاں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیں بھرپور طور پر زندگی میں کھیلنے کی ضرورت ہے، آپ ذہنی طور پر خود کو تیار کریں، یہ نہ سمجھیں کہ آپ کے ہاتھ میں جو تعلیمی ڈگری ہے وہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، باضابطہ طور پر دیکھا جائے تو تعلیمی ڈگری انتہائی اہم ہوسکتی ہے اور یقینی طور پر اس کی قدر ہوتی ہے، لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے، اگر ڈگری میں ہی ملازمت یا کسی بھی طرح کی کیریئر میں آگے بڑھنے کی ضمانت ہوتی تو بے روزگاری اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔

آخر اس کا حل کیا ہے؟ اس کے لئے ہمیں اپنے آپ کو بہتر بنا نا ہوگا، کمپنیاں اور تنظیمیں بہترین خدمات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وہ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کررہی ہیں اور چونکہ ہمارے ملک میں نصف سے زیادہ نوجوان ہیں، بہت سارے متبادلات کے ساتھ، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہیں کسی بھی چیز کو بہترین سے کم نہیں طے کرنا چاہئے۔

اس طرح بدلتے اور خوشگوار اوقات میں، نوجوانوں کو اضافی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہے اور ایسی سرگرمیوں میں جانے کی ضرورت ہے جو ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ شناخت کو اہمیت دیں۔اپنی ذہن سازی کریں خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں، ایسا نہ سوچیں کہ یونیورسٹی میں چار سال گزارنے کے بعد آپ کو خود بخود آسانی سے نوکری مل جائے گی۔

آپ کو ان سب چیزوں سے باہر نکل کر سوچنے کی ضرورت ہے، انٹر ن شپ کریں، پیشہ ور لوگوں سے ملاقاتیں کریں، ان سے سیکھنے کی کوششیں کریں، مشورہ لیں، یوٹیوب یا کسی دوسرے سیکھنے کے پلیٹ فارم کے ذریعہ کچھ اضافی مہارتیں سیکھیں۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں مشغول ہوں جو آپ کی شخصیت میں اضافہ کرے۔ اگر آپ اس طرح کے مسابقتی اوقات میں پیشہ ورانہ طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی،آپ کو ایسا پلیٹ فارم چننے کی ضرورت ہوگی جہاں کوئی اور جانے کے لئے تیار نہ ہو۔

بین الاقوامی مباحثے دیکھیں جو آپ کے فیلڈ سے متعلق ہوں،یوٹیوب پر یا آپ جس پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ مستقبل کی ٹیکنالوجیز کو سمجھیں جو عام طور پر آپ کی زندگی اور فیلڈ میں سامنے آئیں گی، اگر آپ نوجوان پیشہ ور ہیں تو، آپ کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ آپ کو ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے بہترین افراد میں سے ایک بننا ہے۔

یہاں ہماری ساری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بہتر سے بہتر بنایا جائے، اس نظام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے، آئیے خود کو تبدیل کرنے اور بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمیشہ ہمارے اختیار رہتی ہے،تو پھر وہاں سے شروع کیوں نہ کریں؟اگر آپ واقعی خود کو تبدیل کرلیتے ہیں تب ہی آپ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی ہمت اور طاقت پیدا ہوگی، آئیے آج خود سے شروعات کریں۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں