مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی تنصیبات کو ممکنہ خطرات اور بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات نے عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار خطے میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر مارکیٹ کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں منگل کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 55 سینٹ یعنی 0.50 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 110.10 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن کے دوران برینٹ کی قیمت 110.70 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی جو 20 مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نومبر میں ختم ہونے والے معاہدے میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی قیمت 0.24 فیصد بڑھ کر 103.91 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ مذکورہ معاہدے کی مدت منگل کو ختم ہونے والی تھی۔
دوسری جانب دسمبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت میں 39 سینٹ، یعنی 0.40 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 98.93 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورت حال اور توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی گزشتہ ہفتے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق روس کی خام تیل کی پیداوار ستمبر میں یومیہ 65 ہزار بیرل اضافے کے بعد 84 لاکھ 30 ہزار بیرل تک پہنچ گئی تاہم پیداوار اب بھی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں یومیہ تقریباً 8 لاکھ 70 ہزار بیرل کم رہی۔
عالمی تیل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال، توانائی کی فراہمی اور بڑے پیداواری ممالک کی پیداوار پر مرکوز ہے جبکہ ان عوامل میں تبدیلی خام تیل کی قیمتوں کے آئندہ رجحان کو متاثر کرسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








